فتووں کی مصیبت اور حقیقت

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
جنوبی بـھارت کے ایک انگریزی اخبار نے گذشتہ دنوں مسلمانوں کے ایک سرکردہ مذہبی ادارے دارالعلوم دیوبندکے ایک مفتی کا فتوی شائع کیا۔
اس فتوے میں ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بچوں کے کارٹون پروگراموں اورکارٹون فلموں کو اسلام کے منافی قرار دیا گیا ہے اور انہیں دیکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
فتوے میں کہا گیا ہے کہ کارٹون دراصل تصویر ہوتے ہیں اورتصویر بنانا چونکہ خدا کی تخلیق کے عمل کی نقل ہے اس لیے وہ اسلامی تصورات کے منافی ہیں اور انہیں نہیں دیکھنا چاہیے۔
ماضی میں بھی کارٹونوں کے بارے میں اس طرح کے فتوے آئے ہیں اور کئی بار ان پر نکتہ چینی بھی ہوئی ہے۔ اس بار بھی اخبارات نے ایک سینیئر امام کا بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اس فتوے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے فتووں سے مذہب کا مذاق بنا دیا گیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مذہب کے کچھ مسلمہ اصول و ضوابط ہوتے ہیں، کچھ روایات ہوتی ہیں جن پر ان کے پیرو کار عمل کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہب کے مختلف پہلوؤوں کی اکثر کوئی ایک قطعی تشریح نہیں ہوتی۔ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بہت سی تشریحات بدل بھی جاتی ہیں۔
ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب تصویریں کھنچوانے کو اسلام کے منافی سمجھا جاتا تھا اور آج یہ روز مرہ کی زندگی کا ایک لازمی پہلو ہے۔
کچھ عرصے قبل تک علماء لاؤڈ سپیکروں کے استعمال کے خلاف فتوے دیا کرتے تھے آج بھارت کی لاکھوں مساجد کی اذانیں انہیں لاؤڈ سپیکروں سے لوگوں تک پہنچتی ہیں۔
ماضی میں بھی ملک کے بڑے بڑے مذہبی اداروں کی جانب سے متنازعہ نوعیت کے فتوے آتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک دو برس قبل ایک فتوے میں یونیورسٹی اور کالج اور سکول کی تعلیم کو اس بنیاد پر اسلام کے منافی قراد دیا گیا تھا کیونکہ وہاں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔
اسی طرح گھر اور کار خریدنے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بینکوں سے قرض لینے کے خلاف درجنوں فتوے آ چکے ہیں۔ ابھی کچھ دنوں پہلے دفاتر میں مسلم خواتین کے کام کرنے کے خلاف بھی فتوی جاری ہوا تھا۔ جینز پہننے، پرفیوم کے استعمال اور مغربی طرز کے بالوں کا فیشن کرنے کے خلاف بھی متعدد فتوے مل جائیں گے۔
بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور ملک کے آئین کی رو سے ہر شہری کو اپنے اپنے عقیدے، نظریات اور پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
جمہوری معاشروں میں مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے۔ دارالعلوم دیوبند ایک ذمہ دار مذہبی ادارہ ہے۔ دارالعلوم ہی نہیں ملک کے دوسرے اسلامی اداروں نے بھی جمہوری معاشرے میں فرد کے انفرادی اور جمہوری حقوق کو تسلیم کیا ہے۔
ان اداروں نے مذہبی معاملات میں اپنے قطعی اور واضح تصورات کے باوجود انہیں کسی پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔جمہوریت کا یہی تقاضہ ہے۔
ملک کے علماء اور مذہبی رہنماؤں کو زندگی کی اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ وقت کے ساتھ ساتھ قدریں اور طور طریقے بھی بدلتے ہیں۔ اور جو چیز تبدیل نہیں ہوتی وہ مردہ ہو جاتی ہے۔ مذہب فرد کا ایک جمہوری انتخاب ہے اور اس پر عمل کرنا یا نہ کرنا انفرادی فیصلہ ہے۔
بھارت کے مسلمان پہلے ہی کئی طرح کے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔غیر ضروری اور متنازعہ فتووں سے ملک میں کنفیوژن اور پیچیدگیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔







