سیاست میں مجرموں کا کیا کام؟

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
کچھ عرصے پہلے امریکہ کی کسی ریاست میں ایک چھوٹی سی خبر اخباروں میں شائع ہوئی تھی جس کے مطابق مقامی انتطامیہ نے ایک شخص کی شراب کی دکان کا لائسنس اس وجہ سے منسوخ کر دیا تھا کہ انھوں نے ایک بار شراب پی کر کسی سے لڑائی کی تھی۔
امریکہ میں قانون کے تحت کسی ایسے شخص کو شراب کی فروخت کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا تھا جس نے شراب کے نشے میں کبھی کوئی ہلڑ بازی کی ہو۔
مقامی انتطامیہ کو اس شخص کو لائسنس دیے جانے کے اٹھارہ برس بعد اس واقعے کا پتہ چلا اور معلوم ہوتے ہی دکاندار کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا اس کے باوجود کہ اس مدت میں اس شخص کا ریکارڈ بے داغ رہا تھا۔ اسے کہتے ہیں قانون کی حکمرانی۔
امریکہ اور یورپی ممالک کے بر عکس اگر بھارت پر نظر ڈالیں تو کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قوانین ایک جمہوری نظام حکومت کے لیے نہیں بلکہ صرف خلاف ورزیوں کے لیے بنائےگئے ہوں۔
بھارت میں ایک طویل عرصے سے یہ تحریک چل رہی تھی کہ معاشرے میں بد عنوانی، بے ایمانی اور جرائم پر قابو پانے کے لیے سیاست میں جرائم کی آمیزش پر پابندی لگائی جائے۔
اطلاعات کے مطابق ملک کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نصف سے زیادہ ارکان کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے مقدمات ہیں۔
ان میں کئی ایسے ہیں جنھیں اغوا، قتل اور ریپ جیسے سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاست دانوں کے خلاف مظاہروں اور دھرنوں کے دوران اکثر حکومتیں حریف سیاست دانوں کے خلاف مختلف نوعیت کے مجرمانہ مقدمات درج کر لیتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اکثر اوقات مقامی رہنماؤں کے خلاف سیاسی رقابت میں دوسری جماعتوں کے رہنما بھی اپنے حامیوں کے توسط سے اغوا، چھیڑ خانی اور اقدام قتل جیسے جھوٹے مقدمات درج کرا دیتے ہیں۔بھارتی پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے ارکان کے خلاف بیشتر معامالات اسی نوعیت کے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قانون کی پاسداری نہ ہونے اور قانون میں لچک کے سبب گزشتہ کچھ برسوں میں بڑی تعداد میں پارلیمان، ریاستی اسمبلیوں اور سیاست میں جرائم پیشہ افراد بھی داخل ہوئے ہیں۔
سیاست کی جانب جرائم پیشہ افراد کے راغب ہونے کا سب سے بڑا سبب یہ رہا ہے کہ سیاست دانوں نے خود کو اس قدر اختیارات دے دیے کہ وہ قانون سے بالا ترسبجھے جانے لگے۔ دوسرے یہ کہ سیاست تیزی سے دولت حاصل کرنے کا ایک آسان ذریعہ بن گئی ہے۔
پچھلے دنوں بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے دو فیصلوں سے وہ کام کر دیا جو پارلیمان کو بہت پہلے کر لینا چاہیئے تھا۔
عدالتِ عظمیٰ نے ان تمام افراد اور ارکان کو انتخاب لڑنے کا نہ اہل قرار دے دیا جنھیں ذیلی عدالت کسی مجرمانہ معاملے میں سزادے چکی ہو۔ ایسے رہنما اور افراد جو جیل میں ہیں اور ان کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں اب وہ انتخاب نہیں لڑ سکیں گے۔
ان فیصلوں سے سیاست میں جرائم کی آمیزش پر نہ صرف کافی حد تک روک لگ جائے گی بلکہ اب سیاسی رہنما بھی ایسی حرکتوں سے باز رہنے کی کوشش کریں گے جو انہیں پوری زندگی سیاست سے محروم کر سکتی ہیں۔
سیاست میں شفافیت کی طرف یہ پہلا جامع قدم ہے ۔ لیکن حکومت کی جوابدہی کے لیے ایک موثر لوکپال کے قیام اور سی بی آئی جیسے اداروں کو غیر جانبدار اور سیاسی طور پر آزاد بنانے کا عمل ابھی باقی ہے ۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود عدلیہ جوابدہی، شفافیت اور ایمانداری کے لیے اسی طرح کے ضابطے اپنے لیے بھی وضع کرے ۔







