نتیش کی سیاسی خودکشی

اڈوانی اس حقیقت کو سمجھ نہیں پائے کہ ان کا نہ صرف دور ختم ہو چکا ہے بلکہ انہوں نے نو برس سے پارٹی کی جس طرح قیادت کی ہے اس نے فطری طور پر نریندر مودی کو قومی سیاست کے محور پر پہنجا دیا ہے
،تصویر کا کیپشناڈوانی اس حقیقت کو سمجھ نہیں پائے کہ ان کا نہ صرف دور ختم ہو چکا ہے بلکہ انہوں نے نو برس سے پارٹی کی جس طرح قیادت کی ہے اس نے فطری طور پر نریندر مودی کو قومی سیاست کے محور پر پہنجا دیا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بلآخر جنتا دل یونائیٹڈ وہی غلطی کرنے جا رہی ہے جو غلطی بی جے پی کے اعلیٰ رہنما اور بھارت کے غالباً سب سے تجربہ کار سیاسی قائد ایل کے اڈوانی نے پچھلے دنوں کی۔

اڈوانی اس حقیقت کو سمجھ نہیں پائے کہ ان کا نہ صرف دور ختم ہو چکا ہے بلکہ انہوں نے نو برس سے پارٹی کی جس طرح قیادت کی ہے اس نے فطری طور پر نریندر مودی کو قومی سیاست کے محور پر پہنجا دیا ہے۔

اڈوانی اگر مودی کے کراماتی ظہور کو خاموش ناراضگی کے ساتھ قبول کر لیتے توپارٹی میں ان کی بزرگی کا بھرم بھی برقرار رہتا اور پارٹی میں ان کا اثر و رسوخ بھی۔

اڈوانی نے جو غلطی کی اس کے نتیجے میں ملک کے ایک قد آور سیاسی رہنما نے اپنی سیاست کا اختتام اس طرح کیا جو کسی بھی طرح ملک کی سیاست میں گذشتہ 70 برس سے متحرک رہمنا کی سیاسی تقدیر نہیں ہونا چاہیے تھا۔

اڈوانی کی اس غلطی کے بعد بی جے پی کے اندر اب مودی کے خلاف کوئی معمولی اختلاف کے اظہار کی بھی جرات نہیں کرسکے گا۔ مودی اب پارٹی سے بالاتر ہیں۔

یہی غلطی اب بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کررہے ہیں۔ ان کی جماعت جنتا دل یونائیٹڈ گزشتہ 17 برس سے بی جے پی کا اتحادی رہی ہے اور وہ بی جے کے بغیر بہار میں اقتدار میں آنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔

نیتیش کمار کی پارٹی گزشتہ 17 سال سے بی جے پی کی اتحادی رہی ہے
،تصویر کا کیپشننیتیش کمار کی پارٹی گزشتہ 17 سال سے بی جے پی کی اتحادی رہی ہے

نتیش کمار کو نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ کے لیے آگے لانے پر اعتراض ہے۔ جس وقت 2002 میں گودھرا میں ٹرین کے ڈبے میں کار سیوکوں پر حملہ کیا گیا تھا اور جس کے بعد پورے گجرات میں فسادات پھوٹ پڑے تھے اس وقت وہ مرکزمیں ریلوے کے وزیر تھے۔

انہوں نے کسی بھی مرحلے پر نریندر مودی کی کارکردگی یا بی جے پی کے نظریے پر کوئی سوال نہیں اٹھایا تو پھر اچانک ان کے ذہن میں سیکولزم، گجرات کے فسادات اور مودی کا کردار کہاں سے ہچکولے مارنے لگا؟

علاقائی جماعتیں مرکز میں کانگریس کی شکست کے امکانات کو محسوس کر رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار اس طرح کے اشارے کر رہے ہیں کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی۔

علاقائی جماعتوں کو لگتا ہے کہ دہلی ایک بار پھر سیاسی مچھلی بازار بننے والی ہے۔ نتیش کے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہ خواب دبا ہوا ہے کہ اس مچھلی بازار کی افراتفری میں وزارت عظمی کی ٹوکری ان کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔

نتیش کمار کی جماعت اور ان کا تعلق ایک ایسی سیاسی تحریک سے رہاہے جو کمیونزم کی طرح کب کی اپنی معنویت کھوچکی ہے۔ ان کے نظریے کا ایک بنیادی پہلو کانگریس کی مخالفت رہا ہے۔

ایل کے اڈوانی نے بھی نریندر مودی کی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزدگی کی مخالفت کی ہے
،تصویر کا کیپشنایل کے اڈوانی نے بھی نریندر مودی کی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزدگی کی مخالفت کی ہے

سیکیولرزم اپنے موجودہ معنی میں کبھی ان کے سیاسی نظریے کا اہم پہلو نہیں رہا۔ ان کی جماعت دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے فطری طورپر بی جے پی سے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔ بی جے پی کے ساتھ رہنے سے نہ صرف ان کی سیاسی طاقت بڑھ جاتی ہے بلکہ وہ اتحاد کے اندر مودی کے مقابل ضرورت پڑنے پر توازن اور بریک کا کام کرتے تھے۔

نتیش بھی اڈوانی کی طرح اس حقییت کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ نہ تو وہ مودی کی طرح کامیاب منتظم ہیں اور نہ ہی انہیں وہ مقبولیت حاصل ہے جو مودی کو ہے۔

نتیش خود اپنی ریاست میں تیزی سے مقبولیت کھو رہے ہیں۔ اس وقت وہ ایک بہت کمزور پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں۔

اس مرحلے پر اگر بی جے پی سے انہوں نے ناتا توڑا تو سیاسی طور پر یہ ان کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔ وہ بھی اڈوانی کی طرح کہیں کے نہیں ہوں گے ۔

بڑے خواب دیکھنا اچھی بات ہے لیکن خواب ایسا نہ ہو کہ سیاسی خودکشی بن جائے۔