بھارت،چین سرحدی تنازع حل کرنے پر متفق

بھارت اور چین
،تصویر کا کیپشنچینی وزیرِاعظم بھارت کے پہلے دورے میں بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ

بھارت کے دورے پر آئے ہوئے چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے کہا ہے کہ بھارت اور چین کو دیرینہ سرحدی تنازع کو حل کرنے کے لیے ’بہتر طریقہ کار‘ کی ضرورت ہے۔

یہ بات چینی وزیر اعظم نے پیر کو بھارت کے دارالحکومت دہلی میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

من موہن سنگھ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے حکام کا ایک اجلاس جلد ہی منعقد ہو گا جس میں اس تنازع کے خاتمے پر بات چیت کی جائے گی۔

لی کی چیانگ نےکہا ’ہم اس بات کی تردید نہیں کرتے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات نہیں ہیں۔ ہمیں سرحد کے حوالے سے طریقہ کار کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’مسٹر سنگھ اور میں اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مفادات موجود ہیں۔ ہمیں ان اختلافات کو کھلے ذہن سے سلجھانے کی ضرورت ہے۔‘

چین کے وزیر اعظم کے دورے میں دونوں ممالک نے آٹھ معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے اپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات میں بھارت کے ساتھ اعتماد کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے۔

وزیراعظم لی نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد ’دونوں ممالک میں باہمی اعتماد میں اضافے اور تعاون کو فروغ دینا ہے اور مستقبل کا سامنا کرنا ہے۔۔۔ بھارت اور چین کے درمیان سٹریٹیجک تعاون کے بغیر عالمی امن کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکتا۔‘

یہ دونوں پڑوسی ممالک دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ہیں۔

سوموار کو ہونے والی بات چیت میں دو طرفہ مسائل پر بات چیت کے علاوہ تجارت پر توجہ مرکوز رہے گی۔

وزیر اعظم بننے کے بعد یہ لی کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے اور دہلی میں اپنی آمد کے موقعے پر انھوں نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بھارت کو اپنے پہلے دورے کے لیے منتخب کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ’ بیجنگ نئی دہلی سے رشتے کو کافی اہمیت دیتا ہے۔‘

اتوار اور سوموارکی درمیانی شب کو ایک غیر رسمی ملاقات کے دوران بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ ہمالیہ کے ساتھ دونوں ممالک کی سرحد پر حالیہ فوجی تنازع دونوں ممالک کے رشتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

کئی دہائیوں سے جاری سرحدی تنازعے میں گذشتہ مہینے اس وقت اضافہ ہو گیا جب بھارت نے الزام عائد کیا کہ چینی فوج نے بھارتی سرحد کی خلاف ورزی کی تھی۔

لداخ کے علاقے میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع 50 کی دہائی سے جاری ہے۔

نئی دہلی میں بی بی سی کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ طرفین یہ چاہتے ہیں کہ سرحدی تنازع ان کے بہتر ہوتے رشتے پر اثر انداز نہ ہو۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گفتگو میں تجارتی پہلو زیادہ نمایاں رہے گا۔

لی کیچیانگ
،تصویر کا کیپشنلی کیچیانگ اپنے تین روزہ بھارتی دورے پر دہلی میں ہیں

چین پہلے سے ہی بھارت کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور دونوں کے درمیان 2015 تک ایک کھرب ڈالر کی باہمی تجارت کا ہدف حاصل کرنے کا سمجھوتا ہے۔

اپنے اس تین روزہ دورے میں لی کی چیانگ بھارتی صدر جمہوریہ پرنب مکھر جی اور کانگریس چیف سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کریں گے۔

ان کے علاوہ وہ پارلیمان میں حزبِ اختلاف کی رہنما اور ہندو جماعت بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ سشما سوراج سے بھی ملاقات کریں گے۔

دہلی میں اپنے قیام کے دوران وہ طلبہ سے خطاب کریں گے اور ممبئی میں بزنس لیڈروں سے خطاب کریں گے۔

بھارتی دورے کے بعد وہ پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد جائيں گے اور پھر سوئٹزلینڈ اور جرمنی کے دورے پر روانہ ہوں گے۔