بنگلور دھماکے کے سلسلے میں دو افراد گرفتار

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں گزشتہ ہفتے ہوئے بم دھماکے کے سلسلے میں پولیس نے دو افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ دھماکہ سخت گیر ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفتر کے باہر ہوا تھا جس میں سولہ افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس سلسلے میں گرفتاریاں پڑوسی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چینائی میں کی گئي ہیں۔
کرناٹک کی ریاستی اسبملی کے لیے اس وقت انتخابی مہم زوروں پر ہے جہاں پانچ مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس وقت وہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔
پولیس نے یہ نہیں بتایا ہے کہ گرفتار کیےگئے افراد کا تعلق کسی خاص گروپ سے ہے اور نا ہی کسی نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
ایک پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس سلسلے میں جلدی ہی مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔
بنگلور بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں پر آئی بی ایم، مائیکروسافٹ اور ایچ پی جیسی غیر ملکی کمپنیوں سمیت مقامی کمپنیوں کے سینکڑوں دفاتر ہیں اور یہ شہر دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے ایک آسان ہدف سمجھا جاتا ہے۔
دھماکہ ریاست میں برسراقتدار سخت گیر ہندو جماعت بی جے پی کے دفتر کے پاس ہوا تھا۔ انتخا بات کے لیے جس روز کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا آخری تاریخ تھی اسی روز یہ دھماکہ ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل فروری میں بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد میں ایک بم دھماکے میں 17 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔







