
بھارتی کشمیر میں پہلی بار اس طرح کا مظاہرہ کیا گيا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ بائیس سالہ مسلح شورش کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب کشمیریوں نے پاکستان میں جاری شعیہ مخالف تشدد کے خلاف کھلے عام مظاہرے کیے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہلاکتوں کے خلاف پیر کو وادی کے مختلف علاقوں میں شعیہ اور سنی نوجوانوں نے احتجاجی مارچ کیے۔
سب سے بڑا عوامی اجتماع شعیہ غلبہ والے ضلع بڈگام میں ہوا جہاں ہڑتال کے درمیان نوجوانوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔
نوجوانوں نے بڑے بڑے بینر اُٹھا رکھے تھے، جن پر ’کوئٹہ کربلا‘ جیسے نعرے تحریر تھے۔
مظاہرین نے کوئٹہ میں مارےگئے شہریوں کی یاد میں پہلے خاموش دھرنا دیا اور بعد میں ایک مارچ کیا جس کے دوران شدید نعرے بازی کی گئی۔
مظاہرین نے پاکستان کی حکومت کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ ایم جے لون نامی ایک شہری نے بتایاکہ’ رحمان ملک صاحب مذہبی قیادت کے خلاف بیان دیتے ہیں۔ حکومت خواب خرگوش میں ہے اور لوگوں کا قتل عام ہو رہا ہے‘۔
ایم جے لون نے کہا کہ پاکستان کی فوج امریکہ اور روس جیسی طاقتوں کے ہمراہ جنگ میں مصروف رہی ہے اور آئی ایس آئی کا نام دنیا میں مشہور ہے۔ ’اگر وہ لوگ چاہیں تو قصورواروں کو پھانسی پر لٹکایا جا سکتا ہے‘۔
"آصف زرداری صاحب کسی ایڈمیشن کرنے کے چکر میں پتہ نہیں کہاں گئے ہیں۔ رحمان ملک صاحب مذہبی قیادت کے خلاف بیان دیتے ہیں۔ حکومت خواب خرگوش میں ہے اور لوگوں کا قتل عام ہورہا ہے۔"
واضح رہے کہ کشمیر میں شعیوں کی بہت کم لیکن نہایت سرگرم تعداد آباد ہے۔ شعیہ رہنما بھارت نواز اور علیٰحدگی پسند خیموں میں موجود ہیں۔ علیٰحدگی پسندوں کے سیاسی اتحاد حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں میں بھی شیعہ رہنما اہم عہدوں پرفائز ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اُنیس سو نواسی میں جب کشمیر میں مسلح شورش کا آغاز ہوا تو شعیہ گروپوں نے’حزب المومنین‘ نام سے ایک عسکری تنظیم بنائی جس نے بھارتی فورسز کے خلاف متعدد کارروائیاں کیں۔
پچھلے چھیاسٹھ سال میں کشمیر میں شعیہ اور سنی آبادیوں کے درمیان کبھی بھی کشیدگی پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن پچھلے سال سرینگر میں بعض نوجوانوں کے درمیان آپسی لڑائی کے بعد حکومت نے کچھ علاقوں میں پانچ روز تک کرفیو نافذ کیا۔






























