
فوج اور عسکریت پسندوں میں کچھ دنوں سے جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گيا ہے
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے قریب ایک تصادم کے دوران تین بھارتی فوجی اور تین عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
جنوبی کشمیر میں بھی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک تصادم کے دوران لشکرطیبہ سے وابستہ مقامی عسکریت پسند شبیر احمد میر کو ہلاک کیا گیا ہے۔
فوجی ترجمان لیفٹنٹ کرنل ایچ ایس برار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تصادم بدھ کی صبح شمالی کشمیر میں ضلع کپوارہ کے طوطی مار سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب ہوا۔
ترجمان کے مطابق مسلح عسکریت پسندوں کا ایک گروپ بھارتی علاقہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا کہ فوج نے انہیں چیلنج کیا جس کے بعد تصادم شروع ہوا۔
واضح رہے کہ سات سو چالیس کلومیٹر لمبی اور پینتیس کلومیٹر چوڑی لائن آف کنٹرول کے بیشتر حصہ پر بھارتی حکومت نے خار دار تار بچھادی ہے۔
پچھلے چند سال کے دوران کنٹرول لائن کے قریب مسلح تشدد کی وارداتوں میں کمی آئی ہے۔ نو سال قبل بھارت اور پاکستان کے درمیان ایل او سی پر فائربندی کا معاہدہ ہوا تھا جو ابھی قائم ہے۔ تاہم دونوں ملک ایک دوسرے کو وقتاً فوقتاً سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
منگل کو بھی جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد کُجر گاؤں کا محاصرہ کیا گیا جہاں لشکرطیبہ کے کمانڈر شبیر احمد میر چھپے تھے۔
اس تصادم میں شبیر میر کو ہلاک کیا گیا۔ جنوبی کشمیر کے آرونی گاؤں میں بدھ کو شبیر احمد کے جنازے میں سینکڑوں افراد شامل ہوئے۔ اس موقع پر آزادی کے حق میں نعرے بازی بھی ہوئی۔
واضح رہے کہ کشمیر میں پچھلے چند سال کے دوران مسلح تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ مقامی حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ امن کی واپسی پر سخت فوجی قوانین کو ختم کیا جائے، لیکن فوجی حکام نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں ابھی بھی مسلح دراندازی کا خطرہ موجود ہے۔






























