
ہم یہ بالکل واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے: ایس ایم کرشنا
بھارت نے پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اٹھائے جانے کی مذمت کی ہے۔
پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سرسٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو اٹھایا جانا مناسب نہیں ہے۔
نیویارک سے صحافی سلیم رضوی کے مطابق ایس ایم کرشنا نے اپنے خطاب میں پاکستان کے صدر کا نام لیے بغیر ان کے خطاب میں کشمیر کا حوالہ دیے جانے کو غلط قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’اس پلیٹ فارم سے جموں و کشمیر کے حوالے سے نامناسب تنقید کی گئی. اس موضوع پر ہمارا اصولی موقف رہا ہے جو سب کو معلوم ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے بھارتی جمہوری نظام کے ذریعہ کئی بار اپنے مستقبل کے بارے میں انتخاب کیا ہے۔ ہم یہ بالکل واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے‘۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنا مستقبل طے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ نکالا جانا اقوام متحدہ کی ناکامی ظاہر کرتا ہے.
بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت، پاکستان کے ساتھ بات چیت کی پھر شروعات کر چکا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر کرنے کے لیے قدم بڑھا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے جس سے خطے میں امن اور ترقی کو فروغ ملے گا۔
افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت، افغانستان کو ایک پرامن، مستحکم، جمہوری اور خوشحال ملک بنانے کے لیے افغان حکومت اور لوگوں کی مدد کر رہا ہے لیکن انہوں نے سرحد پار پاکستان میں شدت پسندوں کو مل رہی مدد کو امن اور سلامتی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
بھارتی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کو بھی عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ دہشت گردی سے سختی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نیٹ ورک، تربیت کے مراکز اور انہیں رقم فراہم کرنے کے عمل کو بھی ختم کیا جائے۔






























