صدر زرداری کی ہلری کلنٹن سے ملاقات

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 12:09 GMT 17:09 PST

صدرآصف علی زرداری منگل کی شام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے جس کے لیے وہ نیویارک پہنچـے ہیں۔

ميڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستانی سفیر مسعود خان نے صدر آصف علی زرداری کی جنرل اسمبلی میں منگل کی شام ہونیوالی تقریر سے متعلق کہا کہ صدر زرداری اپنی تقریر میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے کوششوں، پیغمبر اسلام سے متعلق متنازعہ ویڈیو، پاکستان میں اقلیتیوں اور عورتوں سمیت پسماندہ لوگوں اور انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے میں پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالیں گے۔

اس موقع پر نیویارک میں پاکستانیوں کی ایک تنظیم پاکستان یو ایس فریڈم فورم نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کیا ہے۔

جنرل اسبملی سے منگل کی صبح امریکی صدر براک اوباما اور دوپہر کو متوقع طور ایرانی صدر احمدی نژاد بھی خطاب کرنے والے ہیں۔

پاکستانی وضاحت

امریکی سیکرٹری خارجہ ہلری کلنٹن نے عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر غلام احمد بلور کے حالیہ بیان کے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے جواب میں صدر زرداری اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے وضاحت کی کہ یہ ان کے وزیر کا ذاتی موقف تھا عوامی نیشنل پارٹی کا موقف نہیں اور عوامی نیشنل پارٹی نے غلام احمد بلور کے ایسے بیان سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

اس سے قبل پیر کو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات میں امریکی سیکرٹری خارجہ ہلری کلنٹن نے پاکستان میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ بھی اٹھایا۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے پاکستانی میڈیا کو صدر آصف زرداری اور سیکرٹری ہلری کلنٹن کے درمیان ملاقات کی تفصیلات سے بتاتے ہوئے کہا کہ مسلح شدت پسند حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی اور پیغمبر اسلام سے متعلق متنازعہ ویڈیو کا بھی مسئلہ اٹھایا۔

امریکی سیکرٹری خارجہ ہلری کلنٹن نے متنازعہ وڈیو اور اس کے نتیجے میں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں پھوٹ پڑنے والے تشدد پر امریکی موقف کو صدر زرداری کے سامنے دہرایا۔

امریکی انتظامیہ کے سینئر اہلکار نے اس کی بھی تصدیق کی کہ سیکرٹری ہلری کلنٹن نے صدر آصف علی زرداری سے اپنی پیر کے روز ہونیوالی ملاقات میں پاکستان میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر غلام احمد بلور کے حالیہ بیان سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جو بھی شخص متنازع فلم ساز کو قتل کرے گا وہ اسے ایک لاکھ ڈالر انعام دیں گے۔

صدر زرداری کے ساتھ ہلری کلنٹن کی ملاقات کا زیادہ محور افغانستان میں مستقبل میں استحکام میں پاکستان کے تعاون پر رہا۔

"ملاقات کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کو خیبر پختونحواہ میں سوات سمیت دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے تفصیلات سے بھی آگاہ کیاآ اس کے علاوہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان امریکہ تعاون، نیٹو سپلائی لائين یا جی لاکس پھر سے کھولے جانے کے بعد کےحالات ، پاکستان کے امریکہ پر واجب الادا کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم کی ادائيگي سمیت کئي امور پر بھی صدر زرداری اور سیکرٹری کلنٹن کے درمیان بات چیت رہی۔"

پاکستانی سفیر، مسعود خان

امریکی انتظامیہ کے اہلکار نے پاکستانی میڈیا کو بتایا کہ صدر زرداری اور سیکرٹری خارجہ ہلری کلنٹن کے درمیان امریکہ اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون اور خاص طور ٹیکسٹائیل یعنی کپڑے کی صنعت کےلیے امریکی منڈی تک رسائی پربھی بات ہوئی۔

صدر زرداری کے ساتھ بات چیت میں ہلری کلنٹن کی معاونت صدر اوباما کے افغانستان و پاکستان پر مشیر مارک گراسمین سمیت محکمہ خارجہ کے سینئر اہلکاروں نے کی جبکہ صدر آصف علی زرداری کے ساتھ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، متحدہ قومی موومنٹ سےتعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی ڈاکٹر فاروق ستار، مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے مشیر مصطفٰی نواز اور سلمان فاوقی شامل تھے۔

ادھر نیویارک میں اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کی طرف سے قائم کردہ پریس سینٹر پر میڈیا کو صدر زرداری اور امریکی سیکرٹری خارجہ ہلری کلنٹن کی ملاقات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے سفیر مسعود خان نے بتایا کہ ملاقات کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کو خیبر پختونحوا میں سوات سمیت دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کے تفصیلات سے بھی آگاہ کیا جبکہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان امریکہ تعاون، نیٹو سپلائی لائن، امریکہ پر واجب الادا کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم کی ادائيگي سمیت کئي امور پر بھی صدر زرداری اور سیکرٹری کلنٹن کے درمیان بات چیت رہی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>