
صدر آصف علی زرداری کی تقریر کو عمومی طور لوگوں نے سراہا اور اسے معمول سے ہٹ کر قرار دیا۔
پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر آصف علی زرداری کی تقریر کے حوالے سے ٹویٹس اور تبصروں کا سلسلہ منگل کی صبح سے ہی جاری تھا اور ان کی تقریر کے دوران اور بعد میں ان میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔
عمومی طور پر صدر زردادی کے حمایتی اور مخالف اپنے اپنے نظریات کے اعتبار سے تقریر پر تبصرے کرتے رہے مگر زیادہ لوگوں کی رائے میں تقریر بہت متوازن اور زوردار تھی۔
ان کے جملے کہ ’تاریخ نہیں بدلی جا سکتی مگر مستقبل کو بدلا جا سکتا ہے‘ کو ٹوئٹر، فیس بک اور دوسری ویب سائٹس پر بہت مرتبہ لکھا اور شیئر کیا گیا۔
اسی طرح جب پاکستانی صدر نے کہا کہ ’میں یہاں پاکستان کے بارے میں یہاں سوالات کے جوابات نہیں دینے آیا بلکہ پاکستانی عوام کی جانب سے کچھ سوالات پوچھنے آیا ہوں‘ تو لوگوں نے تعریف میں کئی بار اسے ری ٹویٹ کیا اور شیئر کیا۔
صدر زرداری کی تقریر میں کشمیر کے حوالے سے کی گئی بات پر کافی افراد نے اسے اس موضوع پر سب سے زیادہ شدت والا بیان قرار دیا۔ اسی طرح زرداری کے فلسطین پر بیان کو بھی سراہا گیا۔
ان پر تنقید کرنے والوں کی کمی بھی نہیں تھی جن میں بلوچ اور پاکستان میں مذہبی طور پر ہراساں کیے گئے طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔
ٹوئٹر پر عبدل نیشاپوری نے لکھا ’امریکی صدر اوباما نے جو کہ ایک عیسائی ہیں اپنے خطاب میں پاکستان میں شیعہ افراد کے قتل کی مذمت کی مگر پاکستانی صدر آصف زرداری نے جو کہ خود شیعہ ہیں اسے چھپانے کی کوشش کی‘۔
کاشف ندیم چوہدری نے لکھا ’زرداری کیسے تمام عقائد کے لیے احترام کی بات کر سکتے ہیں جب پاکستان تمام مسلمانوں کو ریاستی شناختی کارڈ بنوانے کے لیے احمدی عقائد پر تنقید کرنے پر مجبور کرتا ہے‘۔
کئی لوگوں نے صدر زرداری کی جانب سے ان کی اہلیہ بے نظیر بھٹو کی تصویر ایک بار پھر تقریر کے دوران سٹیج پر رکھنے پر تبصرے کیے اور تعجب کا اظہار کیا کہ ایسا کیوں ہے۔
ٹوئٹر پر سعد حسن لطیف نے لکھا ’معذرت کے ساتھ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ بی بی کی تصویر زرداری کی تقریر کے دوران ان کے سامنے کیا کر رہی ہے‘۔
سوشل میڈیا پر لوگوں نے صرف تقریر نہیں بلکہ ماحول پر بھی تبصرے کیے جیسا کہ ایک ٹوئٹر پر اسامہ نجم نے لکھا ’جب زرداری خطاب کر رہے تھے تو آدھی سے زیادہ جنرل اسمبلی خالی تھی ‘۔
نراج پانڈے اور کمال فریدی نے ایک ٹویٹ شیئر کی جس میں زرداری کے اس بیان کو پاکستان میں ایک پھلتی پھولتی سول سوسائٹی ہے کو ایک مبالغہ آرائی قرار دیا۔
ایک اور ٹویٹر میتھیو ولیم نے امریکی وزارت خارجہ میں آصف زرداری اور حامد کرزئی کی ملاقاتوں کے حوالے سے لکھا ’ کرزئی کے لیے اتنے زیادہ بسکٹ کیوں اور زرداری کے لیے کوئی نہیں؟ کھانے پینے کی سفارت کاری؟‘






























