
حالیہ دنوں میں امریکی فلم ساز کی طرف سے اسلام مخالف فلم پر کشمیر میں بھی ہنگامہ ہوا۔ اس کے بعد پولیس نے وادی بھر میں پندرہ مقدمے دائر کئے۔
حکومتِ ہند کی وزارت داخلہ کے ایک حکم نامہ کے بعد کشمیر کی انتظامیہ نے انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کرنے والی دو کمپنیوں ریلائنس اور ٹاٹا سے کہا ہے کہ وہ موبائل فون پر فیس بک اور یو ٹیوب کی خدمات معطل کردیں۔
اس پابندی پر سماجی گروپوں اور علیٰحدگی پسندوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے سرکاری کنٹرول والی انٹرنیٹ کمپنی بھارت سنچار نگم کی طرف سے فون پر یہ سہولیات میسر ہیں۔
مقامی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ قانونی پابندی ہے اور اس کا تعلق حکومت ہند کے اُن معاہدوں کے ساتھ ہے جو سرچ انجن گُوگل اور فیس بک کے ساتھ کئے گئے تھے۔ یہ پابندی عبوری نوعیت کی ہے، قانونی لوازمات پورے ہوتے ہی سروس بحال ہوجائے گی۔‘
انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں کشمیر میں انٹرنیٹ ہی اظہار رائے کا واحد راستہ بچا تھا۔ کالم نگار جاوید احمد کہتے ہیں کہ ’سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ میلاد اور محرم کے جلوسوں پر پابندی ہے۔ یونیورسٹی میں طلبا تنظیم بنانے پر پابندی ہے۔ سب کچھ بند ہے اور اب انٹرنیٹ بھی بند کیا جارہا ہے۔‘
علیحدگی پسند رہنماء سید علی گیلانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حکومت ہند نہیں چاہتی کہ کشمیر کی اصل صورتحال کے بارے میں عالمی توجہ مبذول ہوجائے، یہی وجہ ہے کہ ان ذرائع پر پابندی عائد کی گئی۔‘
کولیشن آف سول سوسائٹیز کے ترجمان خرم پرویز کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا مقصد انٹرنیٹ کو سرکاری نگرانی کے دائرے میں لانا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بھارت سنچار نے چونکہ پہلے ہی وہ انتظام کررکھا ہے ، لہٰذا اس کے ذریعہ یہ سروس جاری ہے۔ کچھ روز کے لئے ہی کیوں نہ ہو، یہ پابندی غیرجمہوری ہے اور آزادیء اظہار پر ایک حملہ ہے۔‘
حالیہ دنوں میں امریکی فلم ساز کی طرف سے اسلام مخالف فلم پر کشمیر میں بھی ہنگامہ ہوا۔ اس کے بعد پولیس نے وادی بھر میں پندرہ مقدمے دائر کئے۔ اس سے قبل غیرمسلح احتجاجی تحریک کے دوران فیس بک پر ہلاکتوں کے خلاف تبصرے پوسٹ کرنے پر کئی نوعمر طلبا کو بھی گرفتار کیا گیا۔
کشمیر میں انٹرنیٹ کے لئے بھارتی ائیر ٹیل، ریلائنس اور بھارت سنچار کی سروسز ہیں۔ ایک اندازے کےمطابق ان کمپنیوں کے پچاس لاکھ سے زائد گاہک ہیں، جو فون یا کمپیوٹر پر انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔






























