
فوج کی فائرنگ سے مقامی لوگوں میں زبردست غصہ ہے
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی علاقے پلوامہ میں جمعہ کے روز مسلح تصادم کے دوران لوگوں پر فوج اور فورسز کی فائرنگ اور بعدازاں ضلع میں سکیورٹی پابندیوں اور گرفتاریوں کے خلاف پیر کو وادی بھر میں مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے۔
ہڑتال کی کال حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے دی تھی اور دیگر علیٰحدگی پسند رہنماؤں اور عسکری گروپوں نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔
واضح رہے کہ جمعہ کے روز پلوامہ چندگام علاقہ میں فوج اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں دو مقامی مسلح عسکریت پسند مارے گئے تھے جن کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔
سیّد علی گیلانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج اور پولیس نے اُس وقت لوگوں پر فائرنگ کرکے نو افراد کو شدید زخمی کردیا جب وہ مارے گئے عسکریت پسندوں کی لاشوں کی سپردگی کا مطالبہ کررہے تھے۔
اس واقعہ کے بعد پلوامہ ضلع میں احتجاجی مظاہروں کی لہر پھیل گئی۔ مظاہروں کو دبانے کے لیے پولیس اور بھارتی فورسز نے لاٹھی چارج کیا، اشک آور گیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔ اس سلسلے میں کئی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اس سے قبل مارے گئے عسکریت پسندوں کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ وہ آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی کررہے تھے۔
اس کے بعد حکومت نے مقامی مجسٹریٹ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں پر فوج کی فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کرکے پانچ جنوری تک رپورٹ پیش کرے لیکن سید علی گیلانی نے ان تحقیقات کو ایک ’خوبصورت مذاق‘ قرار دیا اور کہا ’یہ لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی ایک آزمودہ چال ہے‘ ۔
"تحقیقات ایک خوبصورت مذاق ہے۔ یہ لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی ایک آزمودہ چال ہے۔ کشمیر میں فوج کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں جس کی وجہ سے ریاستی حکومت ایسے جرائم میں ملوث فوجی اہلکاروں کا قانونی مواخذہ نہیں کرسکتی۔"
سید گیلانی
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں فوج کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں جس کی وجہ سے ریاستی حکومت ایسے جرائم میں ملوث فوجی اہلکاروں کا قانونی مواخذہ نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح تصادم میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کے تئیں لوگ اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر میں پولیس اور فوج کے بل پر ایک جبری خاموشی قائم ہے۔
دریں اثنا پلوامہ ضلع میں کرفیو کی وجہ سے عام لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ پچھلے تین روز سے محصور پلوامہ قصبہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں طلباء طے شدہ امتحانات میں شریک نہ ہوسکے اور نوزائیدہ بچوں کے لیے خوراک کی کمی سے صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔
ضلع کے کمشنر شفاعت نور نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کرنے کے لیے عینی شاہدین کے بیانات کو قلمبند کیا جارہا ہے۔
اِدھر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے بھی کشمیر اور بھارت کی دوسری جیلوں میں قید کشمیریوں کی رہائی اور بھارتی عدالتوں کی طرف سے کشمیری قیدیوں کے لیے سزائیں سنانے کے نئے رجحان کو ’انتقامی سیاست‘ قرار دے کر اس کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔






























