
ہڑتال سے کشمیر میں دکانیں اور تعلیمی مراکز بند ہیں
انسانی حقوق کے عالمی دن پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں عام ہڑتال کی گئی جس سے عام زندگي بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ہڑتال کی کال لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک نے تین دسمبر کو دی تھی جس کی حمایت میں مسلح گروپ لشکر طیبہ اور دیگر علیٰحدگی پسند جماعتوں نے بھی لوگوں سے احتجاج اور ہڑتال کی اپیل کی تھی۔
یہ ہڑتال بھارتی عدالتوں کی طرف سے بیس کشمیری قیدیوں کو تادمِ مرگ جیل میں رہنے کے حکم کے خلاف کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر قاسم فکتو، محمد ایوب ڈار اور غلام قادر بٹ سمیت بیس کشمیری قیدیوں کا قانونی دفاع گذشتہ ہفتے اُس وقت خطرے میں پڑگیا جب ایک عدالت نے عمرقید کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس سزا کا مطلب ’حبس تادم مرگ‘ یعنی مرتے دم تک جیل میں رہنا ہے۔
لبریشن فرنٹ کی کال پر شہر کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں نے ہندمخالف مظاہرے کیے۔ اس دوران تعلیمی اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔
لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک اور ان کے ساتھیوں نے پیر کے روز عدالتی فیصلوں کے خلاف بھوک ہڑتال کی۔ فرنٹ کے کئی کارکنوں کو پولیس نے حراست میں بھی لیا۔
محمد یٰسین ملک نے عدالتی فیصلوں اور علیٰحدگی پسندوں کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا، ’ کئی برسوں تک بھارت کی سول سوسائٹی کے رہنما ہمیں نصیحت کرتے رہے کہ تشدد ترک کرو۔ جب کشمیریوں نے غیرمسلح احتجاج کیا تو بھارتی فورسز نے دو سو لوگوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا۔ اب جن لوگوں نے پندرہ یا بیس برس کی قید کاٹی ہے انھیں کہا جارہا ہے کہ مرتے دم تک جیل میں رہو۔ آج کہاں ہے بھارت کی سول سوسائٹی؟ کیا یہاں ہورہے مظالم میں اس سول سوسائٹی کا مفاد خصوصی ہے؟‘
"کئی برسوں تک بھارت کی سول سوسائٹی کے لیڈران ہمیں نصیحت کرتے رہے کہ تشدد ترک کرو۔ جب کشمیریوں نے غیرمسلح احتجاج کیا تو بھارتی فورسز نے دو سو لوگوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا۔ اب جن لوگوں نے پندرہ یا بیس برس کی قید کاٹی ہے انہیں کہا جارہا ہے کہ مرتے دم تک جیل میں رہو۔ آج کہاں ہے بھارت کی سول سوسائٹی۔ کیا یہاں ہورہے مظالم میں اس سول سوسائٹی کا مفاد خصوصی ہے؟"
یسین ملک
واضح رہے کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعے پر وادی میں بائیس سالہ شورش کے متاثرین نے بھی ایک بار پھر انصاف کا مطالبہ دہرایا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ شورش کو دبانے کے دوران فوج اور پولیس نے لوگوں کے ساتھ جو زیادتیاں کی ہیں ان کے لیے جوابدہی کا نظام قائم نہ کیا گیا تو کشمیر میں شورش کی نئی لہر پیدا ہوسکتی ہے۔
دریں اثنا بھارت میں سرگرم انسانی حقوق کی انجمنوں نے کشمیری گروپوں کے اشتراک سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں دو سو سے زائد معاملوں کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں فوج اور پولیس کے پانچ سو افسروں اور اہلکاروں کو مبینہ طور پر قتل، اغوا، جنسی زیادتی یا تاوان جیسے جرائم میں ملوث بتایا گیا ہے۔ پولیس اور فوجی حکام نے اس رپورٹ پر ردعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم رضاکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں رپورٹ ارسال کر دی گئی ہے۔
جنوبی بھارت کے وکیل کارتِک مروکوٹلا نے رپورٹ جاری کرتے وقت بتایا کہ کشمیر میں انصاف کے نام پر محض نقد امداد اور نوکریوں کے وعدے کیے جاتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے کشمیر میں انصاف کا معیار گر رہا ہے اور لوگوں میں بغاوت کا رجحان پیدا ہونےکا خطرہ ہے۔






























