
گزشتہ کچھ دنوں سے کشمیر میں اسرائیل مخالف مظاہرے جاری ہیں
فلسطینی اہداف پر اسرائیل کی بمباری میں مارے گئے فلسطینیوں کے حق میں بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے طلبا نے بدھ کو غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔
کشمیر یونیورسٹی کے احاطے میں سینکڑوں طلباء و طالبات نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پچھلے کئی روز سے کشمیر میں طلبا، خواتین اور وکلاء نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے اسرائیل مخالف مظاہرے کئے۔
نمازِ جنازہ کے بعد ایک طالب علم شعیب احمد نے بتایا کہ طلبا نے اجتماعی طور حماس کے رہنما احمد الجباری اور دوسرے فلسطینی مسلمانوں کے حق میں پرامن ریلی نکالنے کے لیے حکام سے باقاعدہ اجازت لی تھی۔
رومانہ اختر نے بتایا :’ہم دراصل دہشتگردی کی ہرصورت قابل مذمت ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ اسرائیل کے حملے بدترین دہشتگردی ہے۔‘
واضح رہے معروف علیٰحدگی پسند سید علی گیلانی نے پہلے ہی نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطین پراسرائیلی حملوں کے خلاف مظاہرے کریں۔ انہوں نے جمعہ کے روز نماز کے بعد اجتماعی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔
اسرائیل مخالف مظاہروں میں خواتین علیٰحدگی پسندوں، طلبا اور وکلاء نے بھی گزشتہ کئی روز سے سرینگر میں مظاہرے کئے۔
علیٰحدگی پسند رہنما زمرودہ حبیب نے درجنوں برقع پوش خواتین کے ہمراہ سرینگر کے لال چوک میں اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کیا۔خواتین نے ہاتھوں میں کتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر ’اسرائیل دہشتگردی بند کرو‘ کے نعرے لکھے تھے۔
انہوں نے غزہ کے عسکریت پسند رہنماؤں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہارکیا۔ اسی دوران نوجوان وکلاء نے بھی اسرائیل کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف مظاہرے کئے۔ وکلاء نے اسرائیل کا قومی پرچم نذرآتش کیا۔
گزشتہ شام کو یونیورسٹی اور کالجوں کے درجنوں طلبا نے لال چوک میں شمعیں جلا کر اسرائیل کے خلاف غصے کا اظہار کیا۔ طلباء نے رنگین سیاہی سے کتبوں پر اسرائیل مخالف اور فلسطین حامی نعرے تحریر کئے تھے۔






























