عسکری تعلقات پر ہند چین مذاکرات

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 07:14 GMT 12:14 PST
جنرل لیانگ گوانگلی

چینی وزیر دفاع نے اپنے بھارتی ہم منصب سے دلی میں بات چیت کی ہے

چین کے وزیر دفاع جنرل لیانگ گوانگلی بھارت کے دورے پر دلّی میں ہیں اورگزشتہ آٹھ برسوں میں کسی چینی وزیر دفاع کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے۔

اگر چہ ان کے اس دورے میں دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات اور سرحدی تنازعے کے سلسلے میں کسی پیش رفت کی کوئی توقع نہیں کی جا رہی ہے لیکن ان کا یہ دورہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان گزشتہ دو برس سے دفاعی تعلقات معطل تھے اور چین کے وزیر دفاع کے دورے سے جمود ٹوٹنے کا اشارہ ملتا ہے۔

بھارت نے چین سے اپنے دفاعی تعلقات دو برس قبل اس وقت معطل کر دیے تھے جب چین نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تعینات ایک سینیئر جنرل کو یہ کہہ کر ویزا دینے سے انکار کر دیا تھاکہ وہ کشمیر کو ایک متنازع خطہ تصور کرتا ہے۔

اس سے قبل بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے باشندوں کو معمول کا ویزا دینے کے بجائے پرچی پر ویزا جاری کرنے پر بھی بھارت اعتراض کر چکا تھا۔

جنرل گوانگلی ایک ایسے وقت میں دلّی کا دورہ کر رہے ہیں جب چین جنوبی چین سے لے کر بحیرہ ہند تک اپنا عسکری اثر و رسوخ اور اپنی موجودگی کو وسعت دینے میں مصروف رہا ہے۔ گزشتہ دو برس میں بھارت چین سرحد پر بھی چین نے اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے اور گزشتہ مہینوں میں کئی بار سرحد پر چینی فوجیوں کے بھارتی خطے میں داخل ہونے کی خبریں آئی ہیں۔

جنرل لیانگ کے دلّی پہنچنے سے ایک روز قبل بھارتی وزیر دفاع اے کے اینٹنی نے پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ حکومت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چین کی سرگرمیوں کے بارے اسے بھارت کی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔

’حکومت نے چین سے ان سرگرمیوں کے بارے میں اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان سرگرمیوں سےگریز کرے۔‘

"حکومت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چین کی سرگرمیوں کے بارے بھارتی تشویش سے آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان سرگرمیوں سےگریز کرے۔"

بھارتی وزیر دفاع اے کے اینٹنی

انہوں نے ایک تحریری جواب میں اس بات کی تردید کی کہ گزشتہ تین برس میں سرحد پر چینی فوجیوں نے بھارت کے کسی خطے کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے کہا’چینی فوجیوں کے ذریعے اگر حقیقی کنٹرول لائن کی کوئی مداخلت ہوتی ہے تو اس کے بارے میں طے شدہ ضوابط کے تحت بات چیت کی جاتی ہے۔‘

چینی وزیر دفاع سری لنکا کے دورے کے بعد بھارت پہنچے ہیں۔ سری لنکا سے چین کے دفاعی روابط کافی مضبوط ہوئے ہیں اور کولمبو میں وزیر دفاع نے مزید دفاعی امداد کا اعلان کیا ہے۔ چین پاکستان میں گوادر اور سری لنکا میں ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو دلی میں گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

چین کے اپنے پڑوسیوں سے تعلقات کشیدہ ہو رہے ہیں اور بھارت نے حال میں جاپان اور ویتنام سمیت، چین کے ان پڑوسیوں سے اپنی رشتے مضبوط کرنے شروع کیے ہیں۔

امریکہ یہ واضح کر چکا ہے کہ ایشیا بحر الکاہل کا خطہ اس کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کا محور ہوگا اور بقول اس کے بھارت اس کی حکمت عملی کاسب سے اہم کردار ہے۔ چین امریکہ سے بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو’چین پر قابو رکھنے‘ کی امریکہ کی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔

چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مقابلے بھارت کی رفتار سست رہی ہے۔ چین نے اپنی سرحدوں کو مضبوط کرنا شروع کیا ہے۔ حال میں بھارت نے بھی اپنی بحریہ اور فضائیہ کی توسیع کا عمل شروع کیا ہے۔ اس نے چین کی سرحد کے لیے مخصوص ایک لاکھ فوجی جوان بھرتی کرنے کی مہم بھی شروع کی ہے۔ سرحد پر خاموشی ہے لیکن دونوں پڑوسی بڑے پیمانے پر اپنی عسکری طاقت کو وسعت دینے میں مصروف ہیں۔

جنرل لیاننگ اور انٹنی کی بات چیت میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ دونوں رہمنا بہت چھوٹی نوعیت کی مشترکہ فوجی مشق شروع کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس اعلان کی علامتی اہمیت ہوگی۔

جنرل لیانگ کا دورہ بھی اسی لیے علامتی اہمت رکھتا ہے کہ کیونکہ اس سے پس منظر میں چل رہی ان تمام سرگرمیوں کے باوجود براہ راست رابطے اور بات چیت کے راستے کھلے ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>