
بلوائيوں نے نروڈا پاٹیا جیسی چھوٹی سی مسلم آبادی میں نوے سے زیادہ افراد کو قتل کر دیا تھا
بھارتی ریاست گجرات کی ایک خصوصی عدالت نے دو ہزار دو کے مذہبی فسادات کے سلسلے میں نریندر مودی کی حکومت میں سابق وزیر مایا کوڈنانی سمیت بتیس افراد کو قصوروار قرار دیا ہے۔
خصوصی عدالت نے اس مقدمے کے دیگر انتیس ملزمان کو بری کردیا ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ نروڈا پاٹیا کیس میں سنایا ہے جس میں اٹھائیس فروری دو ہزار دو کو مذہبی فسادات کے دوران ستانوے افراد کو ہلاک کردیا گیا تھا۔
فسادات کے دوران قتل عام کا یہ سب سے بڑا واقعہ تھا۔ عدالت نے ہندو شدت پسند تنظیم بجرنگ دل کے ایک لیڈر بابو بجرنگی کو بھی مجرم قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر مایا کوڈنانی ریاستی اسمبلی میں نروڈا کی نمائندگی کرتی ہیں اور وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی بہت قریبی مانی جاتی ہیں۔
اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کی مقررکردہ خصوصی تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کے بعد دو ہزار نو میں شروع ہوئی تھی۔
گجرات کے شہر گودھرا میں ایک ٹرین میں آگ لگائے جانے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر ریاست میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔
مرنے والوں میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ گودھرا میں ٹرین کا ڈبہ جلنے سے ستاون ہندو کار سیوک ہلاک ہوئے تھے جو ایودھیا سے واپس لوٹ رہے تھے۔
نروڈا پاٹیا غریب مسلمانوں کی آبادی ہے جہاں ان کے گھروں کو آگ لگا دی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ نریندر مودی پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ فسادات کو روکنے کے لیے انہوں نے دانستہ طور پر خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تھی۔






























