گجرات فسادات: حکومتی استدعا رد

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارت کی سپریم کورٹ نے نریندر مودی حکومت کی اس درخواست کو ماننے سے انکارکر دیا ہے کہ وہ ریاستی ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر حکم امتناعی جارے کرے جس کے تحت مودی حکومت کو فسادات میں تباہ ہونے والی مساجد اور درگاہوں کے لیے معاوضہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ فروری میں یہ حکم دیا تھا کہ گجرات حکومت ریاست میں گودھرا کے واقعے کے بعد رونما ہونے والے فسادات میں تباہ ہونے والی پانچ سو سے زیادہ مساجد اور درگاہوں کی تعمیر کے لیے معاوضہ ادا کرے۔
مودی حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اپنی دلیل میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں نقص ہے ’کیونکہ ملک کے آئین کے سیکیولر اصولوں کے تحت کوئی حکومت مذہبی اداروں کو فنڈ فراہم نہيں کر سکتی۔‘
دلی سے ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی کی درخواست تسلیم نہیں کی اور مودی حکومت کو حکم دیا کہ وہ فسادات میں تباہ ہونے والی عبادت گاہوں اور مساجد کی صحیح تعداد اور ان کی تعمیر نو پر آنے والے اخراجات کے تخمینے کی تفصیلات عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کرے۔
عدالت عظمیٰ حکومت سے یہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا حکومت نے فسادات کے دوران عبادت گاہوں کو ہونے والے حقیقی نقصانات کا کبھی کوئی جائزہ لیا ہے؟‘
عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کی آئندہ سماعت کے لیے نو جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے ۔
گجرات کے مسلمانوں کی ایک تنظیم اسلامک ریلیف کمیٹی نے 2003 میں احمدآباد میں عدا لت میں معاوضے کے لیے درخواست داخل کی تھی۔ اسلامک کمیٹی کے مطابق فسادات کے دوران پانچ سو سے زیادہ مساجد اور درگاہوں کو تباہ کیا گیا۔
گجرات ہائی کورٹ نے 8 فروری کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مودی حکومت کی سخت سرزنش کی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا ’فسادات روکنے میں حکومت کی طرف سے مناسب اقدامات کی کمی، بے عملی اور غفلت کے سبب ریاست میں بڑے پیمانے پر مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایاگیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت عالیہ نے منہدم عبادت گاہوں کی تعمیر کا معاوضہ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا ’حکومت نے جب فسادات میں تباہ ہونے والے مکانوں اور دکانو ں کے لیے معاوضہ ادا کیا ہے تو اسے مذہبی عمارتوں کے لیے بھی معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔ اور اگر یہ ان منہدم عبادت گاہوں کی پہلے ہی تعمیر نو ہو چکی ہے تو ان پرجو بھی اخراجات آئیں ہوں حکومت انہیں ادا کرے۔‘
گجرات ہائی کورٹ نے ریاست کے تمام اضلاع کے پرنسپل ججوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں منہدم عبادت گاہوں کی تفصیل حاصل کریں اور ان کے معاوضے کی تفصیل طےکریں۔ انہیں اس کے لیے چھ مہینے کا وقت دیا گیا تھا۔
ریاستی حکومت نے معاوضہ دینے کی یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ اس قدم سے آئین کے بنیادی حقوق کی دفعہ 27 کی خلاف ورزی ہو گی جس کے تحت حکومت کو ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کسی مذہب کے فروغ پرخرچ کرنے سے روکا گیا ہے۔
مودی حکومت نے یہی دلیل سپریم کورٹ میں بھی دی ہے۔ آئندہ سماعت نو جولائی کو ہوگی۔







