
حکومت کا کہنا ہے کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے سی اے جی نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ اِس سے متفق نہیں ہے
بھارت میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے کہا ہے کہ نیلامی کے بغیر کوئلے کی کانیں حاصل ہونے سے بھارت میں نجی کمپنیوں کو ایک لاکھ چھیاسی ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہونے کا امکان ہے لیکن یہ سرکاری خزانے کو نقصان پہچانے کے مترادف ہے۔
کوئلے کی صنعت پر سی اے جی کی رپورٹ جمعے کو پارلیمان میں پیش کی گئی جس میں ایسار پاور، ہنڈالکو، ٹاٹا سٹیل، ٹاٹا پاور اور جندل سٹیل اینڈ پاور سمیت پچیس ایسی کمپنیوں کے نام شامل ہیں جنہیں بغیر نیلامی کےکوئلے کی کانیں دی گئی تھیں۔ اِن میں سرکاری کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
سی اے جی حکومت کے کنٹرول سے آزاد ادارہ ہے جو آئین کے تحت پارلیمان کو جوابدہ ہے اور حکومت کے کام کے طریقہ کار کی نگرانی کرتا ہے۔ موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بہت سستی قیمت پر ٹو جی سپیکٹرم الاٹ کیے جانے کا انکشاف بھی سی اے جی نے ہی اپنی ایک رپورٹ میں کیا تھا۔
لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے سی اے جی نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ اِس سے متفق نہیں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی دو ہزار چار کے بعد سے کوئلے کی ایک سو بیالیس کانیں الاٹ کی گئیں۔ سن دو ہزار چھ اور دو ہزار نو کے درمیان کوئلے کا قلمدان خود وزیر اعظم من موہن سنگھ کے پاس تھا جس کی وجہ سے حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی ماضی میں انہیں بھی نشانہ بناتی رہی ہے اور اس کا مطالبہ رہا ہے کہ الاٹمنٹ کے عمل کی باریکی سے تفتیش کرائی جانی چاہیے۔
رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد بی جے پی کی لیڈر سشما سوراج نے کہا کہ سرکاری خزانے کو ہونے والے نقصان کے لیے خود وزیر اعظم ذمہ دار ہیں۔
سی اے جی کا کہنا ہےکہ اگر نیلامی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہوتا، جس کا فیصلہ برسوں پہلے کیا جاچکا تھا، تو جو فائدہ نجی کمپنیوں کو ہو رہا ہے اس کا ایک حصہ سرکاری خزانے میں بھی جاتا اور یہ کہ اس کے خیال میں سستے کوئلے کی فراہمی کا فائدہ صارفین تک پہچنانے کے لیے ایک سخت نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔
سشما سوراج نے کہا کہ یو پی اے حکومت کا دور بدعنوانی کے الزامات سے بھرا پڑا ہے اور ’ ہر گھپلہ پچھلے گھپلے سے بڑا ثابت ہوتا ہے۔’
رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد حکومت کی پریشانیاں بڑھ سکتی ہیں اور حزبِ اختلاف کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جانا طے ہے کہ پورے معاملے کی آزادانہ تفتیش کرائی جائے اور سرکاری خزانے کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری طے کی جائے۔






























