
بابا رام دیو نے کہا ہے کہ ان کی تحریک جاری رہے گی
بھارت کے معروف یوگا گرو بابا رام دیو نے کالے دھن کے خلاف جاری اپنی چھ روزہ بھوک ہڑتال ختم کر کے حکمراں جماعت کانگریس کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔
منگل کو امبیڈکر سٹیڈیم میں جمع اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے بابا رام دیو نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا ’ ہمارے حامیوں نے مجھ سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور اسی اپیل کو مانتے ہوئے میں بھوک ہڑتال ختم کر رہا ہوں لیکن ہماری تحریک جاری رہے گي۔‘
اس موقع پر بابا نے مرکز میں حکمراں جماعت کانگریس پر زبردست نکتہ چینی کی اور کہا کہ آنے والے عام انتخابات میں اس جماعت کو کسی بھی حالت میں شکست دی جائے۔
بابا رام دیو بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں اور گزشتہ برس بھی دلی کے رام لیلا گراؤنڈ پر انہوں نے بھوک ہڑتال کی تھی لیکن اب وہ کھل کر کانگریس پارٹی کی مخالفت کرنے لگے ہیں۔
بابا پانچ روز تک رام لیلا گراؤنڈ میں بھوک ہڑتال پر تھے اور انہوں نے حکومت کے سامنے کئی مطالبات پیش کیے لیکن جب حکومت نے کسی بھی طرح کی بات چيت سے انکار کیا تو گزشتہ روز انہوں نے پارلیمان کے سامنے مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم جب وہ اپنے ہزاروں حامیوں کے ساتھ پارلیمان کی طرف بڑھنے لگے تو انہیں حراست میں لے لیا گيا۔
"میرے حامیوں نے مجھ سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور اسی اپیل کو مانتے ہوئے میں بھوک ہڑتال ختم کر رہا ہوں لیکن ہماری تحریک جاری رہے گی"
بابا رام دیو
پولیس انہیں دلی کے مضافتی علاقے بوانا لے جانا چاہتی تھی لیکن وہ وہاں جانے کے بجائے کسی طرح امبیڈکر سٹیڈیم پہنچ گئے اور وہ اپنے حامیوں کے ساتھ کل سے وہیں براجمان ہیں۔
حراست میں لیے جانے سے قبل اپوزیشن جماعت بی جے پی کے صدر نتن گٹکری اور جنتادل یو کے رہنما شرد یادو بابا رام دیو کے سٹیج پر پہنجے تھے اور انہیں اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی۔
رام لیلا گراؤنڈ سے پارلیمان کی جانب مارچ کرنے سے پہلے بابا رام دیو نے کہا تھا کہ وہ حکمراں جماعت کانگریس کو آئندہ انتخابات میں اکھاڑ پھینکیں گے۔
ان کا کہنا تھا ’لوک سبھا کے انتخابات سنہ دو ہزار چودہ میں ہوں گے اور بہت ممکن ہے کہ تیرہ میں ہی ہوجائیں۔ اس احتجاج کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بے ایمان لوگ پارلیمان میں نا آ پائیں۔ ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔‘
یوگا گرو رام دیو نے گزشتہ برس بھی رام لیلا گرانڈ پر کئی روز تک بھوک ہڑتال کی تھی اور پھر انہیں وہاں سے ہٹایا گيا تھا۔
اس وقت گرفتاری سے بچنے کے لیے بابا جی خواتین کے لباس میں فرار ہوگئے تھے۔






























