آسام: لڑکے گاؤں میں، لڑکیاں کیمپ میں

آسام کیمپ

،تصویر کا ذریعہb

،تصویر کا کیپشنکیمپ میں رہنے والوں کو کھانے کی قلت کا سامنا ہے۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں گزشتہ دس روز سے جاری بوڈو قبائل اور مسلم اقلیتوں کے درمیان ہونے والے تشدد کے واقعات میں اب تک پچاس سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت کے وزیرِ داخلہ پی چدامبرم نے آسام کے متاثرہ اضلاع کا سوموار کو دورہ کیا اور سب سے زیادہ متاثر ضلع کوکراجھار کے ایک کیمپ میں لوگوں سے ملے اور ان سے تمام ممکنہ امداد کا وعدہ کیا ہے۔

ریاست کے اضلاع کوکراجھار، چرانگ، بکسا، دھبری اور بوگائیگاؤں دونوں گروہوں کے مابین تصادم سے متاثر ہیں۔ سب سے زیادہ تشدد کے واقعات کوکراجھار ضلع میں پیش آئے جہاں حالات کشیدہ لیکن قابو میں بتائے جاتے ہیں۔ تشدد سے متاثر تین لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی کر کے امدادی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

بی بی سی بنگلہ سروس کے نامہ نگار شووجیت باگچی نے کوکراجھار ضلع کا دورہ کیا اور ایک امدادی کیمپ میں لوگوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کیمپ میں مقیم تکدیر باسومتاری اور ایلورا سے بات کی۔

اس سے قبل انھوں نے ایک مسلم اقلیتی کیمپ کا بھی دورہ کیا تھا جہاں انہیں امدادی کاموں میں سست رفتاری اور اشیاء کی قلت صاف نظر آئی۔

ایک سوال کے جواب میں تکدیر نے کہا ’ہمارے بوڈو قبیلے کے بہت سے لوگوں نے اپنا گاؤں چھوڑ دیا ہے۔ ایسے لوگ دھبری میں بھی رہتے ہیں جہاں بہت سارے مسلمان رہتے ہیں۔ جب حکومت ان لوگوں کو واپس بھیجے گی تو تشدد کے واقعات دوبارہ ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی ایک شخص پر بھی حملہ ہوتا ہے تو ماحول پھر سے خراب ہو سکتا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا ’خواہ وہ مسلمان ہو یا بوڈو دونوں صورتوں میں ماحول خراب ہو سکتا ہے۔ کسی بھی جگہ ان میں سے کسی کو بھی مارا جاتا ہے تو ماحول کے بگڑنے کا خدشہ ہے۔ میں چاہتاہوں کے دونوں برادریاں پرامن رہیں‘۔

تشدد کے بھڑکائے جانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں تکدیر نے بتایا ’حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو کوئی غیر بوڈو بھی مارتا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ بوڈو نے قتل کیا ہے۔ کسی نے بھی اگر کسی مسلمان کا گھر جلا دیا تو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ بوڈو کی حرکت ہے‘۔

ایلورا اکیس جولائی سے کیمپ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’اس کیمپ میں ہمارے گاؤں کے علاوہ دور دراز کے گاؤں والے بھی ہیں جن کا گھر بار جل گیا ہے۔ ہمارا تو کچھ نہیں گیا لیکن حملہ ہونے کے بعد ہم یہاں آ گئے ہیں‘۔

کیا حملہ کرنے والے بنگالی مسلمان تھے کے جواب میں انھوں نے کہا ’حملہ کرنے والوں میں بنگالی تو نہیں لیکن مسلمان ضرور تھے۔ یہ ہمارے گاؤں کے لوگ نہیں۔ ہمارا گھر تو نہیں جلا ہے لیکن دوکان کو کچھ نقصان پہنچا ہے‘۔

آسام تشدد
،تصویر کا کیپشنآسام تشدد میں آگ زنی کے کافی واقعات رونما ہوئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار نے پوچھا کہ یہاں تو زیادہ تر خواتین ہیں تو مرد کہاں ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ایلورا نے بتایا ’لڑکے اور مرد گاؤں میں ہیں اور لڑکیوں کو یہاں بھیج دیا ہے۔ وہ لوگ رات میں گشت کرتے ہیں اور دن میں ساتھ مل کر کھانا بناتے اور کھاتے ہیں‘۔

کھانا کہاں سے آیا ہے، کیا حکومت نے دیا ہے کے جواب میں ایلورا نے کہا ’یہ کھانا حکومت نے دیا ہے۔ پہلے جب ہم سنیچر کو یہاں آئے تھے تو دال، آلو، سویا بین وغیرہ تھا لیکن اب سب کافی کم ہو گیا ہے۔ ہماری پارٹی آل بوڈو اسٹوڈنٹس یونین ہمیں کھانا دے رہی ہے‘۔

ایلورا نے بتایا کہ لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ حالات اچھے ہو گئے ہیں لیکن کیمپ سے گھر جانے کے لیے ہمیں ابھی نہیں کہا گیا ہے۔

اس سے قبل بھارت کے وزیر اعظم نے ریاست کا دورہ کیا تھا اور اس واقعے کی مکمل جانچ کا حکم دیا۔ انھوں نے متاثرہ افراد کے لیے تین سو کروڑ روپے کے امدادی پیکج کا اعلان بھی کیا تھا۔

ہلاک ہونے والوں کے لیے دو دو لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کے لیے پچاس پچاس ہزار روپے اور تیس تیس ہزار روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔