بھارت: حکومت کے حج کوٹے میں زبردست کمی

بھارتی حج زائرین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت میں حج کے کوٹے پر عدالت نے فیصلہ سنایا ہے۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے حکومت کے ذریعے حج پر بھیجے جانے کے اس کے اختیاری کوٹے میں زبردست کمی کرتے ہوئے مجوزہ پانچ ہزار پچاس سیٹوں کو کم کرکے تین سو کر دیا ہے۔

جسٹس آفتاب عالم اور رنجن پرکاش ڈیسائی پر مشتمل ایک بنچ نے حکومت کے ذریعے حج کی زیارت کے لیے حکومت کے کوٹہ پر سماعت کرتے ہوئے ان میں کمی کا فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ عدالت نے آٹھ مئی کو حکومت سے اس کے اختیار کوٹے کی تفصیلات طلب کی تھیں کہ کس طرح حکمران اور اہم شخصیات اپنے اس اختیار کا استعمال کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے حکومت کے ذریعے حج پر روانہ کیے جانے والے افراد کی تعدا میں کمی کرتے ہوئے جہاں صدر مملکت کو سو افراد کو حج پر بھیجنے کا اختیار متعین کیا ہے وہیں نائب صدر کو پچھتر، وزیر اعظم کو پچھتر اور وزیر خارجہ کو پچاس لوگوں کو حج پر روانہ کرنے کا اختیار دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس کے علاوہ دو سو سیٹیں بھارتی حج کمیٹی (ایچ آئی سی) کے لیے مخصوص کی گئی ہیں۔

اس سے قبل عدالت کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ سنہ دو ہزار بارہ میں حج کے لیے حکومت کے ذریعے گیارہ ہزار سیٹیں مخصوص کی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی ہائی کورٹ سنہ دوہزار بارہ کے لیے حج رجسٹریشن کے بارے میں کوئی مقدمہ درج نہیں کر سکتا اور اگر کوئی معاملہ آتا ہے تو اسے عدالت عظمیٰ میں منتقل کر دیا جائے۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں حاجیوں کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی رعایت کی پالیسی پر نکتہ چینی کی تھی اور اسے آئندہ دس برس میں بتدریج ختم کر دینے کی ہدایت دی تھی۔