امرناتھ یاترا سے کشمیر حکومت پریشان

امرناتھ یاتری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنامرناتھ جانے والے بیشتر یاتری اپنا رجسٹریشن نہیں کراتے ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوب میں پیر پنچال پہاڑی سلسلہ پر واقع شری امرناتھ غار کی یاترا پچیس جون کو شروع ہوئی تھی اور اُنیس جولائی تک اس یاترا کے دوران نوّے اموات ہوئی ہیں۔

ان اموت سے متعلق بھارت کی سپریم کورٹ نے کشمیر کی حکومت سے باقاعدہ جواب طلب کیا ہے۔

اکثر اموات سخت سردی اور پہاڑی بلندیوں پر آکسیجن کی کمی کے باعث حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ہوئی ہیں لیکن گزشتہ روز جموں سرینگر شاہراہ پر یاتریوں سے بھری ایک گاڑی حادثے کا شکار ہوئی جس میں پندرہ یاتری ہلاک ہوگئے۔

سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کا چیلنج تو دیرینہ ہے لیکن حکومت فی الوقت یاتریوں کے رش سے نمٹنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

سرکاری اطلاعات کے مطابق صرف تین ہفتوں کے دوران کُل ساڑھے پانچ لاکھ یاتریوں نے امرناتھ گھپا میں شیولنگ کے درشن کیے ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے پونے چار لاکھ کے قریب یاتریوں نے ہی مطلوبہ رجسٹریشن کی تھی۔

اس رجسٹریشن کے تحت یاتریوں کو اپنی طبّی جانچ کی سند بھی پیش کرنا ہوتی ہے لیکن سرکاری افسروں کا کہنا ہے کہ جموں میں مقیم ہندو نواز گروپوں نے اس معاملے کو وقار کا مسئلہ بنا لیا اور ان کی کوشش یہ رہتی ہے کہ کس طرح حکومت کو پچھاڑ دیا جائے۔

یاترا کا انتظام کرنے والے ادارہ شری امرناتھ شرائن بورڑ کے سربراہ نوین چودھری نے اس سلسلے میں بات کرنے سے انکار کردیا تاہم ایک سرکاری افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’ہر سال یہاں لوگ حج پر جاتے ہیں۔ سرکاری طور پر جانے والوں کے ناموں کا قرعہ ڈالا جاتا ہے۔ صرف منتخب افراد جاتے ہیں اور باقی لوگ اگلے سال کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن یاترا کے معاملے کو کچھ عناصر سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں‘۔

امرناتھ غار تک پہنچنے کے لیے دو الگ الگ راستے ہیں۔ ایک راستہ سرینگر سے شمال مشرق کی جانب ایک سو چالیس کلومیٹر اور دوسرا راستہ جنوب مغرب کی طرف نوّے کلومیٹر کی دُوری پر ہے۔ پہلگام میں چندن واڑی اور سونہ مرگ میں بال تل یاتریوں کے دو بڑے ٹھکانے ہیں۔

بال تل کے بیس کیمپ کے پاس یاترا کے بعد لوٹنے والے یاتریوں نے مختلف تاثرات ظاہر کیے۔

ممبئی کے رہنے والے ڈاکٹر اوپیندر کمار اور ان کی اہلیہ ششی کمار نے بتایا کہ ہندؤں کا یہ مقدس مقام تھاجی واس گلیشئر پر واقع ہے اور اگر زیادہ تعداد میں لوگ وہاں جائیں گے تو نہ صرف ماحولیات کو خطرہ لاحق ہے بلکہ یاتریوں کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

ششی کمار کا کہنا تھا کہ ’بھارت میں صرف یہی یاترا نہیں ہوتی۔ اتراکھنڈ میں بدری ناتھ کی یاترا کا انتظام کیسے کیا جاتا ہے۔ وہاں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ وہاں حکومت کوٹہ طے کرتی ہے اور رجسٹریشن کا نظام صاف اور مؤثر ہے‘۔

یاتری کہتے ہیں کہ زیادہ یاتریوں کی آمد سے ماحولیات کو نقصان پہنچےگا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیاتری کہتے ہیں کہ زیادہ یاتریوں کی آمد سے ماحولیات کو نقصان پہنچےگا

کچھ یاتریوں نےگھوڑے بانوں اور پالکی میں مسافروں کو ڈھونے والوں کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ من مانے نرخوں کا مطالبہ کرکے یاتریوں کو’لُوٹ‘ رہے ہیں۔ کیرلا کی کرشنا بالاسبرمنیم اور گجرات کی شانتا بہن کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو چاہیے کہ وہ صحیح بندوبست کرے‘۔

شانتا بہن کے خاوند چار دن کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعہ واپس بال تل پہنچے جہاں وہ اپنی بیوی سے ملے۔ کرشنا بھی چار بار پہاڑوں میں بھٹک گئں تھیں۔ اکثر یاتریوں کا کہنا ہے کہ یاترا کے راستوں پر مناسب طبی سہولیات میّسر نہیں ہیں اور عم ررسیدہ یاتریوں کا سانس پھولنے پر آکسیجن نہیں مل پاتی۔

قابل ذکر ہے کہ امرناتھ یاترا پر آنے والوں کی تعداد کی حد بندی مقامی حکومت کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے یاترا کی مدت بڑھانے کے بورڑ کے فیصلہ کی مخالفت بھی کی تھی جبکہ موجودہ حکومت نے بھی اس مدت کو چالیس روز سے زائد کرنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔

لیکن بی جے پی اور دائیں بازو کے دوسرے گروپ اس حوالے سے حکومت کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔