انسانی فضلہ کو ڈھونے کےخلاف قانون سازی کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ بیت الخلاء کی ہاتھ سے صفائی اور انسانی فضلہ کو سروں پر ڈھونے کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا قانون بنایا جائے گا اور اس سے منسلک افراد کا اعداد و شمار بھی از سر نو کیا جائےگا۔
سماجی انصاف اور حقوق سے متعلق مرکزی وزیر مکل واسنک کا کہنا ہے کہ اس سے متعلق بل آنے والے مون سون اجلاس میں ہی پیش کیا جاسکتا ہے۔
حکومت نے یہ اعلان اداکار عامر خانے کی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد کیا ہے۔ انہوں نے پیر کے روز وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔
بھارت میں بعض خاص برداریوں کے افراد سے لوگ بیت الخلاء کی ہاتھ سے صفائی کرتے ہیں اور پھر انسانی فضلات سروں پر ڈھوتے ہیں اور انہیں اس کے لیے انتہائی کم اجرت ملتی ہے۔
عامر خان نے اپنے مشہور ٹی وی شو ’ستیہ مئے جئے تے‘ میں ایسی ہی افراد کے برے حالات اور ان کے مصائب کو پیش کیا تھا جس سے یہ معاملہ ایک بار پھر سے سرخیوں میں آیا۔
وزیراعظم منموہن سنگھ نے عامر خان سے ملاقات کے بعد ان سے مکل واسنک سے ملاقات کرنے کو کہا اور اسی ملاقات کے بعد عامر اور مسٹر واسنک نے ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔
مسٹر واسنک کا کہنا تھا کہ انسانی فضلات کی ہاتھوں سے صفائی اور اسے ڈھونے کو پوری طرح سے ختم کرنے کے لیے ایک بل تیار ہے جسے جلد ہی پیش کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو افراد اس پیشے سے منسلک ہیں ان کا از سر نو اعداد و شمار کیا جائےگا۔ ’یہ بہت تکلیف دہ بات ہے کہ آزادی کے چھ عشروں کے بعد بھی ایک طبقہ ہاتھوں سے فضلہ صاف کرنے یا ڈھونے کا کام کرتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس روایت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے اپنے وعدے پر قائم ہے اور اس سلسلے میں ریاستی حکومتوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
بھارت میں ایک قانون کے مطابق انسانی فضلہ کی ہاتھ سے صفائی یا اسے سر پر ڈھونے کی روایت کو غیر قانونی قرار دیا گيا تھا لیکن قانون میں سقم کی وجہ سے اس پر صحیح طور عمل نہیں ہو سکا ہے۔
بھارت میں کئی لاکھ لوگ اب بھی اس پیشے سے منسلک ہیں اور پرانے طرز کے بیت الخلاء کی ہاتھ سے صفائی کرکے اور فضلہ کو سروں پر ڈھوکر اپنی زندگی گذارتے ہیں۔
ان کے بہت سے سماجی اور معاشی مسائل ہیں لیکن برسوں سے جاری یہ غیر انسانی سلوک جاری ہے۔







