آسام: سیلاب سے لاکھوں افراد بے گھر

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے ستائیس اضلاع میں آنے والے سیلاب میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اب ستّتر ہوگئی اور لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا پیر کو دورہ کیا اور ریاست کو اس میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے پانچ سو کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ کیا اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ ریاستی حکومت کی رپورٹ کے بعد ہی کریں گے۔
لیکن وزیر اعظم نے ریاستی حکومت کے ذریعے کیے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ منموہن سنگھ کے ساتھ برسراقتدار کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور آسام کے وزیر اعلی ترون گوگوئی بھی تھے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی تک فوج نے چار ہزار لوگوں کی جان بچائی ہے جبکہ 84۔4 لاکھ افراد کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔
اس سے قبل بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ریاست کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ اکسٹھ لوگ سیلاب سے ہلاک ہوئے جبکہ سولہ افراد مٹی کے تودے گرنے سے ہلاک ہوئے۔
حکام کے مطابق چھ افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور دریائے برہم پترا اور کپلی اب بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ سیلاب سنہ دو ہزار چار میں آنے والے سیلاب سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور اس میں تینتالیس ہزار ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قومی آفات پر فوج کے ادارے کے سینيئر رکن کے این سنگھ اور ریاست کے وزیرِ زراعت نیل منی سین ڈیکا نے بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔
اتوار کو سیلاب کی صورت حال میں کچھ بہتری آئی ہے اور بارش رکنے کے سبب کچھ علاقوں میں پانی کی سطح میں بھی کمی آئی ہے۔
آسام میں گزشتہ پندرہ دن سے مون سون کی شدید بارشیں جاری ہیں اور ریاستی وزیرِ زراعت کا کہنا ہے کہ یہ ریاست میں سنہ انیس سو اٹھانوے کے بعد آنے والا بدترین سیلاب ہے۔
آسام کے وزیرِ صحت ہمانتا بسوا شرما کے مطابق ریاست کے مرکزی دریا برہم پتر سمیت تمام دریاؤں میں پانی کی سطح انتہائی بلند ہے اور متعدد مقامات پر دریاؤں کے حفاظتی پشتوں میں شگاف پڑنے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔
خیال رہے کہ بھارتی ریاست آسام کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے جہاں حالیہ بارشوں کے بعد مٹی کے تودے گرنے سے سو سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔







