حاجیوں کے لیے رعایت ختم کریں:سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہAP
بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں حاجیوں کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی رعایت کی پالیسی پر نکتہ چینی کی ہے اور ہدایت دی ہے کہ اسے آئندہ دس برس میں بتدریج ختم کر دیا جائے۔
سپریم کورٹ کے جج التمش کبیر اور رنجنا دیسائي پر مشتمل دو رکنی بینج نے کہا کہ ’ہمارا موقف یہ ہے کہ اس پالیسی کو ختم کرنا ہی بہتر ہے‘۔
عدالت نے حکومت پر اس بات کے لیے بھی نکتہ چینی کی کہ سرکاری حکام وفد کی شکل میں حاجیوں کے ساتھ جاتے ہیں اور حکومت ان کا خرچ برداشت کرتی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ’یہ غلط عمل ہے‘۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ وزیراعظم کے دفتر سے خیر سگالی کے لیے دس ارکان کے بجائے صرف دو ارکان کو جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔
عدالت نے حج کمیٹی میں بے ضابطگیوں کا بھی نوٹس لیا اور کہا کہ وہ اس کے کام کاج اور عازمین حج کے انتخاب کے طریقۂ کار پر بھی نظر رکھے گي۔
سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے حاجیوں کو دی جانے والی رعایات کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ اس طرح ڈیزائن کی گئی ہے کہ حج کرنے والے کو زندگي میں ایک ہی بار سبسڈی ملے۔
مسلم تنظیموں نے عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ وہ پہلے ہی سے اس بات کا مطالبہ کر رہے تھے کہ سبسڈی کے نام پر سرکاری ایئر لائن ’ایئر انڈیا‘ اپنی من مانی کرتی ہے۔
عام طور پر حکومت حاجیوں کے ہوائی کرائے میں رعایت دینے کی بات کہتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس سے بھی سرکاری ایئر لائن کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حاجیوں کو لانے یا لے جانے کے لیے نجی پروازوں کو اجازت نہیں ہے اور اسی سے متعلق ممبئی ہائی کورٹ میں پہلے مقدمہ درج کیا گيا تھا جس میں ہائي کورٹ نے نجی ایئر لائن کو اجازت دینے کی بات کہی تھی۔
مرکزی حکومت نے اسی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے حکومت کی رعایت دینے کی پالیسی کو مسترد کر دیا ہے۔







