افضل گورو کی معافی، کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
بھارتی پارلیمان پر حملے میں موت کی سزا پانے والے افضل گورو کے لیے معافی کا معاملہ پیر کو کشمیر اسمبلی میں ہنگامے کے باعث بن گیا۔
افضل گورو کے حق میں معافی کی قرارداد پر بحث کا مطالبہ کرنے والے رکن اسمبلی عبدالرشید کو ہنگامے کے بعد سلامتی دستوں نے ایوان سے باہر نکالا۔
یہ معاملہ پہلے ہی سے تنازعہ کی وجہ بنا ہوا ہے کیونکہ حکمران جماعت کے سربراہ فاروق عبداللہ نے گزشتہ روز افضل گورو کے لیے پھانسی کی حمایت کی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ مسٹر فاروق کے بیٹے اور وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے پہلے افضل گورو کے لیے معافی کا بالواسطہ مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے ایک ٹویٹ میں تامل ناڈو اسمبلی کی مثال دی تھی اور کہا کہ ’جس طرح جنوبی ریاست کی اسمبلی نے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے قتل میں ملوث لوگوں کے لیے معافی کی قرارداد منظور کی ہے، اسی طرح کشمیر میں ہوجائے تو کیا بھارت خاموش رہےگا۔‘
واضح رہے کہ افضل گورو کو دلیّ کی ایک عدالت نے دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمان پر ہوئے مسلح حملے میں ملوث قرار دے کر انہیں موت کی سزا سنائی تھی۔ ان کی طرف سے رحم کی درخواست بھارتی صدر کے پاس زیرغور ہے۔ بھارتی وزیرداخلہ پی چدامبرم نے مسٹر گورو کے لیے پھانسی کی سفارش کی ہے۔
دلچسپ امر ہے کہ ایوان اسمبلی میں افضل گورو کی معافی کے لیے بحث کے بارے میں ہنگامہ ہوا تو کچھ ممبران نے عبدالرشید پر الزام عائد کیا کہ وہ بھارتی خفیہ اداروں کے ایجنٹ ہیں جبکہ کچھ دیگر نے کہا کہ وہ پاکستان کے ایجنٹ ہیں۔
حزب اختلاف کی رہنما محبوبہ مفتی نے اس سلسلے میں کہا ’افضل گورو کا معاملہ تو خود وزیراعلیٰ نے ہی اسمبلی میں اُبھارا۔ قرارداد پر بحث ہونی چاہیئے تھی لیکن حکمران جماعت نے بعض اسمبلی ممبروں کو استعمال کیا اور شورشرابہ سے اس قرارداد پر بحث ٹل گئی۔‘
محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا ’وزیراعلیٰ نے غیرذمہ دار طریقہ سے ٹویٹ کیا اس سے بحث چِھڑی لیکن بحث کے لیے موقعہ نہیں دیا جاتا۔ یہ سب تو اسمبلی کے تقدس کو پامال کررہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی جے پی کے سینئرلیڈر اشوک کھجوریا نے بی بی سی کو بتایا ’افضل گورو تو وطن دشمن ہے۔ اس اجلاس میں ہم کسی کو اس کی معافی کے لیے عرضی دینے کی اجازت نہیں دینگے۔‘
واضح رہے کہ کشمیری علیٰحدگی پسندوں نے بھی افضل گورو کے حق میں مہم چلائی ہے اور بعض بھارتی این جی اوز بھی ان کی حمایت کرتی ہے۔ ان میں معروف ناول نگار ارون دھتی رائے بھی شامل ہیں۔
بعض علیٰحدگی پسندوں، جن میں محمد یٰسین ملک قابل ذکر ہیں، کا کہنا ہے کہ افضل گورو کو پھانسی دی گئی تو کشمیر میں پھر سے مسلح تشدد بھڑک اُٹھے گا۔







