ہتک عزت معاملہ، چینل پر ایک ارب روپے کا دعویٰ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبھارت میں ہتک عزت کے لیے کسی چینل پر ایسا مقدمہ پہلی بار سامنے آیا ہے

بھارتی سپریم کورٹ نے ہتک عزت کے ایک مقدمہ میں ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو درست قرار دیا ہے جس میں ایک انگریزی نیوز چینل کو سماعت کے دوران ایک ارب روپے جمع کرنے کو کہا گيا تھا۔

ممبئی ہائی کورٹ نے نیوز چینل ’ٹائمس ناؤ‘ سے کہا تھا کہ وہ مقدمہ کے جاری رہنے تک عدالت میں بیس کروڑ روپے نقد جمع کرے اور باقی اسّی کروڑ روپے بینک کی گارنٹی کی صورت میں جمع کرائے۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف چینل نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی لیکن عدالت نے اس میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت میں رقم جمع کرے۔

بھارت میں ہتک عزت کی بابت کسی بھی میڈیا تنظیم پر اتنی بڑی رقم کا دعویٰ پہلی بار کیا گیا ہے۔

یہ معاملہ سنہ دو ہزار آٹھ کا ہے جب فریب اور دھوکہ سے متعلق ایک خبر کو نشر کرتے ہوئے متعلقہ چینل نے سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی تصویر نشر کر دی تھی۔

سپریم کورٹ کے سابق جج پی بی ساونت نے اس کا سخت نوٹس لیا تھا اور انہوں نے پونا کی ذیلی عدالت میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

پونا کی اسی ذیلی عدالت نے سماعت کے بعداپنے فیصلے میں چینل سے کہا تھا کہ وہ جسٹس ساونت کو ہرجانے کے طور پر رقم کی ادائیگی کرے۔

ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو چینل نے ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن اس نے سماعت کے دوران چینل کو یہ رقم جمع کرانے کے احکامات جاری کیے تھے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اسے ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی خامی نظر نہیں آتی اس لیے چینل ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرے۔

نیوز چینل کا کہنا ہے کہ اس نے غلطی سے جسٹس ساونت کی تصویر نشر کر دی تھی جس کے لیے اس نے پانچ روز تک معافی مانگي ہے اس لیے اس پر جرمانہ عائد نہیں کیا جانا چاہیے۔

لیکن جج کے وکیل کی یہ دلیل تھی کہ متنازع تصویر کے نشر ہونے کے فوراً بعد چینل سے رابطہ کیا گيا اور اسے آگاہ کیا گیا تھا لیکن چینل نے غلطی درست کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ پھر چند روز بعد اسے لکھا گيا تب دو ہفتے کے بعد اس نے معذرت شروع کی۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیوز چینل کا طریقہ کار لاپراوہی والا تھا اور وہ اصول و ضوابط کا خیال نہیں کرتا۔

اس دوران چینل کے سربراہ ارنب گوسوامی نے جسٹس ساونت کی ساکھ خراب کرنے کے لیے پھر سے معذرت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ غلطی انجانے میں ہوگئی تھی۔

اس دوران بھارت میں ذرائع ابلاغ کی معروف تنظیم ’ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا‘ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش ظاہر کی ہے۔