چین اور بھارت کے درمیان نقشہ پر تنازعہ

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارت میں چین کے سفیر کی ایک نقشہ پر صحافی سے بحث ہوگئی، جس میں بھارت کے کچھ حصے چین کی سرحد میں دکھائےگئے ہیں۔
زہنگ یان دلی میں ایک تقریب میں شرکت کر رہے تھے، جہاں ایک چینی کمپنی بھارتی ریاست گجرات میں سرمایہ کاری کے ایک معاہدے پر دستخط کر رہی تھی۔
اس کمپنی کے تیار کردہ ایک نقشے میں ریاست اروآنچل پردیش اور لداخ کو چین کا حصہ دکھایاگیا تھا اور متنازعہ کشمیر کا کچھ حصہ پاکستان کی سرحد میں تھا۔
ایک بھارتی صحافی کے اس سلسلے میں بار بار سوال اٹھانے پر مسٹر زہنگ نے اسے ’شٹ اپ‘ یعنی خاموش ہو جانے کو کہہ دیا۔
یہ واقعہ دلی کے ایک پرتعیش ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پیش آیا، جہاں چینی کمپنی کے تیارکردہ ایک کتابچے میں یہ نقشہ بنا ہوا تھا۔
مسٹر زہنگ کا کہنا تھا کہ صحافی ان سے مستقل یہ سوال کرتا رہا، حالانکہ انہوں نے پہلے ہی جواب میں کہا تھا کہ یہ ایک تکنیکی مسئلہ ہے جسے ٹھیک کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھانا چاہتا ہے اور اس طرح کا رویہ اس میں مدد نہیں دیتا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے صحافی کو’شٹ اپ‘ کیوں کہا، تو مسٹر زہنگ نے کہا کہ یہ ایسی کوئی بڑی بات نہیں اور وہ اس مسئلہ سے دوستانہ انداز میں نمٹ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کی وزارت خارجہ کے ایک جوائنٹ سیکرٹری گوتم بمبالے نے کہا کہ انہوں نے اس نقشہ پر اپنے اعتراضات چین کے سفارتخانہ تک پہنچا دیے ہیں اور انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ ایک غلطی تھی جسی صحیح کر دیا جائے گا۔
چین اور بھارت کی سرحد پر کئی علاقے ہیں جو متنازعہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں انیس سو باسٹھ میں جنگ بھی ہوئی تھی۔







