’ٹرانزٹ روٹ پر ڈرنےکی ضرورت نہیں‘

بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمنموہن سنگھ ایک بڑا وفد لیکر بنگلہ دیش پہنچے ہیں

بھارت کے وزیرِاعظم منموہن سنگھ دو روزہ دورے پر منگل کو بنگلہ کے دارالحکومت ڈھاکہ پہنچے ہیں۔

دلی میں روانگی سے قبل انہوں نے بنگلہ دیش کے سرکاری خبر رساں ادارے بنگلہ دیش سنواد سنستھا ( بی ایس ایس) سے بات چيت میں کہا کہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت کی جانب سے ٹرانزٹ راستے کی پیشکش پر بنگلہ دیش کے بعض حلقوں میں خدشات پائے جاتے ہیں تو اس پر ان کی سوچ کیا ہے۔ اس کے جواب میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ اس مسئلے پر حتمی فیصلہ بنگلہ دیش کو کرنا ہے اور وہ جو بھی فیصلہ کرےگا بھارت اسے تسلیم کرےگا۔

منموہن سنگھ نے کہا ’ ویسے میں راستوں، اور بنیادی ڈھانچوں کے ذریعے بھارت کے ساتھ جڑنے میں خوف کی کوئی وجہ نہیں پاتا ہوں۔ دونوں ملکوں کے فائدے کے لیے اس مسئلے پر کافی کچھ کیا جا سکتا ہے اور اس میں زمینی اور پانی کے ذریعے راستہ دونوں شامل ہیں۔‘

واضح رہے کہ بھارت نے اپنے بعض شمال مشرقی علاقوں سے رابطے کے لیے بنگلہ دیش کے راستے سڑک اور ریل لائن سے ٹرانزٹ روٹ کی مانگ کی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے بنگلہ دیش کی بندر گاہوں تک بھی داخلی راستے کا مطالبہ کیا ہے۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ بھارت نے بنگلہ دیش کو نیپال اور بھوٹان سے جوڑنے کے لیے سڑک اور ریل راستوں کو پہلے ہی کھول دیا ہے۔

منموہن سنگھ بنگلہ دیش میں قیام کے دوران باہمی تعاون اور اشتراک کے کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ ان کے اس دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات کے سلسلے میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ان کے ساتھ وزیرِخارجہ، آبی وسائل کے وزير، چار شمال مشرقی ریاستوں کے وزراء اعلٰی اور قومی سلامتی کے مشیر سمیت ایک بڑا وفد ڈھاکہ پہنچا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ بھارت کو راہداری دینے سے لے کر بھارت سے بجلی کی سپلائی اور بنگلہ دیش میں ایک بڑے بجلی گھر کے قیام سمیت تجارت اور باہمی رشتوں کو فروغ دینے کے لیے دس سے زیادہ معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

ان معاہدوں میں دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا بھی ایک اہم معاہدہ ہونے والا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق دریائے تیستا کے حوالے سے مغربی بنگال کی وزیرِاعلی ممتا بینرجی ناراض ہیں اسی لیے وہ بنگلہ دیش کے دورے پر نہیں گئی ہیں، اور شاید اس مسئلے پر یہ معاہدہ نا ہو پائے۔

دریائے تیستا بھارت کی ریاست سکم سے نکل کر مغربی بنگال ہوتے ہوئے بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے پانی کی تقسیم پر ایک عرصے سے صلاح و مشورہ چل رہا تھا اور معاہدے کا ایک مسودہ تیار کیا گیا تھا۔ لیکن ممتا بینرجی کو اس پر اعتراض ہے۔

بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو بھارت کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے اور حزبِ اختلاف کی رہنما خالدہ ضیاکی جماعت بی این پی ان پر الزام لگاتی رہی ہے کہ شیخ حسینہ بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کر رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ اگر دریائے تیستا کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ عمل میں نہ آ سکا تو یہ وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کے لیے ملک کے اندر ایک بڑا سیاسی مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔