ممبئی دھماکے:آر ایس ایس کے نام پر ہنگامہ

دگ وجے سنگھ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندگ وجے سنگھ اپنے ہنگامائی بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں

بھارت کی حکمراں کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں ہونے والے مختلف بم دھماکوں میں ملوث رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تفتیشی اداروں کو ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں ہندو تنظیموں کی بھی تفتیش کرنی چاہیے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کے اس بیان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر سیاست کر رہے ہیں ۔

کانگریس کے رہنما اور پارٹی کے جنرل سیکرٹری دگ وجے سنگھ نے ایک عرصے سے آر ایس ایس کو نشانہ بنا رکھا ہے اور اتوار کو اجین میں انہوں نے کہا کہ ہندو تنظیم آر ایس ایس بم بنانے میں ملوث رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ تنظیم کئی بم دھماکوں میں ملوث رہی ہے۔

اگرچہ مسٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ بدھ کے ممبئی بم دھماکوں کے بارے میں ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن تفتیشی ایجنسیوں کو کسی بھی تنطیم کو شک کے دائرے سے باہر نہیں رکھنا چاہیے۔

انہوں نے ماضی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ رہا ہو کہ اگر ان واقعات کی صحیح طریقے سے جانچ ہو تو مجھے پورا یقین ہے کہ اس میں آر ایس ایس اور بی جےپی کے رہنماؤں کا ہاتھ ملے گا‘۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے کہا کہ مسٹر سنگھ دہشت گردی جیسے سنگین سوال پر ملک کا اتحاد توڑنا جاہتے ہیں۔ ’وہ اپنے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے دہشتگردی کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

مسٹر پرساد نے مزید کہا کہ ’مسٹر سنگھ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی زبان بول رہے ہیں اور اس کے پیچھے ووٹ بینک کی سیاست ہے‘۔

کانگریس پارٹی نے دگ وجے سنگھ کے بیان پر کوئی تبصرہ کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے بارے میں کسی طرح کی قیاس آرائی کرنا مناسب نہیں۔

پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ ’جب تفتیش چل رہی ہو تو اس کے بارے میں غیر ضروری قیاس آرائی کرنا میرے خیال میں صرف متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے‘۔

لیکن آر ایس ایس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کانگریس کے ترجمان نے کہا ’میں مثال کے طور پر اس بات کو سامنے رکھوں گا کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی تفتیش سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس میں بعض ایسے افراد ملوث تھے جن کا تعلق ایک خاص تنظیم سے تھا‘۔

ان سیاسی الزامات اور جوابی الزامات کے درمیان ممبئی بم دھماکوں کی تفتیش اب ملک کی سات ریاستوں تک پھیل گئی ہے ۔

تفتیشی ادارے پرانے واقعات سے معلومات حاصل کر کے اس واقعے کا کوئی سراغ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اطلاعات ہیں کہ ممبئی کی انسداد دہشت گردی شاخ نے عینی شاہدوں کے بیانات کی بنیاد پر ایک مشتبہ شخص کا خاکہ تیار کر لیا ہے اور اسے تفتیش میں مدد کے لیے صرف تفتیش کاروں کو دیا جائے گا۔