زچگی کے دوران اموات میں کمی

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت میں زچگی کے دوران عورتوں کے مرنے کی شرح میں سترہ فیصد کی کمی ہوئی ہے اور اب تین ریاستوں نے اقوام متحدہ کے ’ملینیم گول’ حاصل کر لیے ہیں۔
حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار چار سے دو ہزارچھ کےدوران ہر ایک لاکھ زچگیوں میں دو سو چون عورتوں کی موت ہو جاتی تھی لیکن دو ہزار سات سے دو ہزار نو میں یہ تعداد گھٹ کر دو سو بارہ رہ گئی۔
لیکن پورے ملک میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے اس شرح کو آئندہ چار برسوں میں ایک سو نو تک لانا ہوگا۔ لیکن بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اموات کی شرح ریکارڈ کرنے کا طریقۂ کار زیادہ اطمینان بخش نہیں ہے۔
عورتوں اور بچوں کی صحت کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ’چارم‘ سے وابستہ ڈاکٹر شکیل رحمان کہتے ہیں کہ بہار میں تقریباً تیس فیصد اموات ہی ریکارڈ ہو پاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں حفظان صحت کا نظام اب بھی اطمینان بخش نہیں ہے اور غریب لوگ زچگی کے لیے مقامی مرکز صحت نہیں پہنچ پاتے لیکن ’حکومت کی جانب سے ماؤں کو نقد امداد فراہم کرنے کی سکیموں کی وجہ سے ان سینٹروں میں آنے والی عورتوں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔‘
حکومت نے حال ہی میں ایک سکیم شروع کی ہے جس کےتحت سرکاری ہیلتھ سینٹروں میں بچوں کی پیدائش کے لیے آنے والی عورتوں کو تمام سہولیات بالکل مفت فراہم کی جائیں گی۔ اس سکیم کے تحت انہیں دواؤں اور غذائی اشیا کے ساتھ ساتھ گھر سے ہسپتال آنے جانے کا خرچ بھی دیا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ بہتری آسام میں آئی ہے لیکن وہاں حالات اب بھی کافی خراب ہیں کیونکہ اس شمالی مشرقی ریاست میں شرح اموات اب بھی(ہر ایک لاکھ زچگیوں میں) تین سو ساٹھ ہے۔ سب سے بہتر صورتحال کیرالا، تمل ناڈو اور مہاراشٹر میں ہے۔ کیرالا میں یہ شرح صرف اکیاسی ہے جبکہ مہاشٹر میں ایک سو تیس سے کم ہوکر اب ایک سو چار رہ گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے اہداف کے مطابق انیس سو نوے سے دو ہزار پندرہ تک زچگی کے دوران عورتوں کی موت کی شرح میں تین چوتھائی کمی لانے کا چیلنج رکھا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعداد و شمار کے مطابق پیدائش کےبعد بچوں کی شرح اموات میں بھی کمی آئی ہے۔ پہلے ہر ایک ہزار میں سے ترپن بچوں کی موت ہوجاتی تھی لیکن اب یہ تعداد پچاس ہو گئی ہے۔







