ہریانہ، سسرال نہ جانے کی سزا موت

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکیتھل میں منوج اور ببلی کو بھی قتل کر دیا گيا تھا

بھارت کی ریاست ہریانہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع کیتھل میں گھر والوں نے سسرال نہ جانے پر ایک لڑکی کو گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا ہے۔

لڑکی کے بعض رشتہ داروں نے اس بارے میں پولیس کو فون کر کے اطلاع دی تھی اور لاش کے پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق لڑکی کے باپ، چچا اور ایک دوسرے رشتے دار نے مل کر لڑکی کو ہلاک کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس کم عمر لڑکی کی شادی ایک عمر دراز آدمی سے کی گئی تھی اسی لیے لڑکی نے سسرال جانے سے انکار کیا تھا۔ اسی وجہ سے گھر کے افراد نے مل کر اسے قتل کردیا۔

بھارت کے کئی علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل ہوتے رہتے ہیں اور ریاست ہریانہ ان میں سر فہرست ہے۔ لیکن پولیس کا کہنا ہے ابھی اس معاملے کو غیرت کے نام پر قتل سے جوڑنا جلد بازی ہوگا۔

کیتھل ضلع کے ایس ایس پی سمر دیت سنگھ نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ ابھی اس معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے اس لیے ’غیرت کے نام اسے قتل بتانا جلد بازی ہوگي۔‘

دوسری طرف ہلاک ہونے والی لڑکی کے بعض رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ قتل دراصل غیرت کے نام پر ہی کیا گيا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ گھر والوں کی دھمکیوں کے بعد لڑکی نے پولیس کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس افسر سمردیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس دھمکیوں سے متعلق بےخبر تھی۔

ریاست ہریانہ میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات بہت عام ہیں۔ یہی ایک ایسی ریاست ہے جہاں مادر رحم میں ہی بچیوں ختم کروانے کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔

ضلع کیتھل میں ہی معروف ببلی اور منوج کا واقعہ پیش آيا تھا۔ ان دونوں نے گھر سے فرار ہوکر شادی کی تھی جس کے بعد انہیں گھر والوں نے قتل کر دیا تھا۔

اس واقعے میں پہلی بار ایک عدالت نے پانچ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔