کلماڈی کی درخواستِ ضمانت مسترد

سریش کلماڈی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسریش کلماڈی کو آج عدالت میں پیش کیا گيا تھا

دلی کی ایک خصوصی عدالت نے دولت مشترکہ کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی کے گرفتار شدہ سابق چیئرمین سریش کلماڈی کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں آٹھ دن کے لیے سی بی آئی کی تحویل میں دیدیا ہے۔

اس سے پہلے جب سریش کلماڈی کو منگل کی دوپہر عدالت میں پیش کیا جا رہا تھا تو ایک شخص نےان پر چپل پھینکا لیکن نشانہ چوک گیا۔

پولیس نے چپل پھینکنے والے شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس کا نام کپل ٹھاکر بتایا گیا ہے۔

کلماڈی کو دولت مشترکہ کھیلوں کے لیے جاری کیے جانے والے ایک کانٹریکٹ میں ایک سوئز کمپنی کو غیر قانونی طور پر فائدہ پہنچانے کے الزام میں پیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ ان کی اس کارروائی سے سرکاری خزانے کو پچانوے کروڑ روپے کا نقصان پہنچا تھا۔

کپل ٹھاکر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچپّل پھینکنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے

کلماڈی کانگریس کے سینیئر رہنما اور لوک سبھا کے رکن ہیں لیکن گرفتاری کے بعد پارٹی نے ان کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔

سی بی آئی نے کلماڈی سے پوچھ گچھ کے لیے عدالت سے چودہ دن کے ریمانڈ کی درخواست کی تھی۔ ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران سریش کلماڈی کے وکیل نے کہا کہ جس کانٹریکٹ کے سلسلے میں ان کے موکل کو گرفتار کیا گیا ہے اس کی منظوری کھیلوں کے اس وقت کے وزیر ایم ایس گل نے دی تھی۔

دولت مشترکہ کھیل گزشتہ برس اکتوبر میں ہوئے تھے اور بعض تخمینوں کے مطابق گیمز کے انعقاد پر تقریباً ستر ہزار کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔ تب سے ہی بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور بےضابطگیوں کے الزامات گردش کر رہے تھے۔

ان الزامات کی تفیش کرنے والی شنگلو کمیٹی نے سرکردہ سیاستدانوں اور سرکاری اداروں کے رول پر انگلی اٹھائی تھی جن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ حزب اختلاف کی جانب سے مسلسل کیا جارہا ہے۔ سی بی آئی اور بھی کئی ٹھیکوں کی تفتیش کر رہی ہے اور اب تک بدعنوانی کے آّٹھ مقدمے قائم کیے گئے ہیں۔ آرگنائزنگ کمیٹی کے دو اعلی اہلکاروں کو پہلے ہی گرفتار کی جاچکا ہے۔

کلماڈی انیس سو چھیانوے سے انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں لیکن ان کی گرفتاری کے بعد مستقل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے آئی او اے کا اجلاس منگل کی شام دلی میں ہو رہا ہے۔ پیر کو وفاقی وزیر برائے کھیل اجے ماکن نے کہا تھا کہ آئی او اے کو ایک نیا سربراہ منتخب کرنا چاہیے۔