ممبئی میں عزت کے نام پر قتل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مہاراشٹر کے تجارتی شہر ممبئی کے شمال مشرقی علاقے میں ایک خاتون شبانہ صابر خان کو ان کے رشتہ داروں نے عزت کے نام پر قتل کر دیا ہے۔ عدالت نے قتل کے ملزمان کو سترہ فروری تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔
شیواجی نگر پولیس سٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر بھرت سنگھ پردیسی نے بی بی سی کی نامہ نگار ریحانہ بستی والا کو بتایا کہ شبانہ کا قتل مبینہ طور پر ان کی اپنی ہی بہنوں اور ماموں کے کہنے پر ان کے بیٹوں نے کیا تھا کیونکہ شبانہ کم عمر لڑکے علی سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔
لوٹس کالونی میں رہنے والی شبانہ کی اپنے شوہر سے ڈیڑھ سال قبل طلاق ہوئی تھی اور طلاق کے بعد وہ کارڈ بورڈ کے بکس بنا کر دو بچوں کو پال رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق اس دوران شبانہ کے علی سے تعلقات بنے اور وہ اتوار کے روز اس سے نکاح پڑھوانے والی تھیں۔ پولیس کے ہی مطابق اس روز شبانہ کے ماموں زاد بھائی اور بھانجے گھر آئے اور ان کے درمیان رات گئے تک اس بات پر جھگڑا ہوتا رہا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انسپکٹر پردیسی کے مطابق اس جھگڑے کے بعد علی اور شبانہ کے رشتہ دار وہاں سے چلے گئے لیکن رات کو دو سے ڈھائی بجے کے درمیان وہ کسی طرح گھر کے اندر داخل ہوئے۔
دو ملزمان نے شبانہ کے ہاتھ پیر پکڑ لیے منہ بند کیا اور ایک نے رسی سے گلا گھونٹ کر انہیں ہلاک کر دیا۔
اس دوران شبانہ کی بیٹی کی آنکھ کھل گئی لیکن اس وقت تمام ملزمان فرار ہو گئے۔
پولیس نے اختر علی اصغر علی، مقصود عرف وکی منظور بیگ، محمد امیر عرف عرف سونو محمد خان، اور محمد معید عرف بابو محمد شکیل کے خلاف قتل اور ثبوت ضائع کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
انسپکٹر پردیسی کے مطابق ملزمین کا کہنا ہے کہ شبانہ کی وجہ سے ان کے خاندان کی عزت مٹی میں مل رہی تھی اور انہیں بدنامی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اس لیے انہوں نے یہ قتل کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







