سمجھوتہ ایکسپریس این آئی اے تفتیش کریگی

سمجھوتہ دھماکہ
،تصویر کا کیپشنفروری دو ہزار سات میں ہوئے دھماکے میں اڑسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے

بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کو سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے سے متعلق ان افراد سے پوچھ گچھ کی اجازت مل گئی ہے جو اجمیر دھماکے کے سلسلے میں جیل میں بند ہیں۔

راجستھان میں انسداد دہشتگردی کے لیے خصوصی عملے اے ٹی ایس نے اپنی تفتیش میں اس بات کے اشارے کیے تھے کہ سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین دھماکے میں بھی انہیں افراد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

چار برس قبل بھارت اور پاکستان کے درمیان چلنے والی ریل گاڑی میں ہوئے بم دھماکوں میں تقریبا ستّر لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والے بیشتر افراد پاکستانی شہری تھے۔ اس کی جانچ کے احکامات دیے گئے تھے لیکن چار برس بعد بھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ اس میں کس کا ہاتھ تھا۔

اجمیر کی سیشن عدالت نے نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی یعنی این آئی اے کو عدالتی حراست میں رہتے ہوئے دیوندر گپتا اور لوکیندر شرما سے پوچھ گچھ کی اجازت دی ہے۔

سمجھوتہ دھماکہ
،تصویر کا کیپشنسمجھوتہ دھماکے میں رانا شوکت کے پانچ بچے ہلاک ہوئے تھے

ان دونوں افراد کو اجمیر کی درگاہ کے احاطے میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سے اس سلسلے میں کافی سراغ ملے ہیں۔

اے این آئی نے عدالت کو بتایا ہے کہ یہ دونوں افراد کا تعلق ایک ہندو تنظیم سے ہے اور ان کے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں ملوث ہونے کے متعلق جانکاری ملی ہے۔

عدالت نے ایجنسی کو پوچھ گچھ کی تو اجازت دی ہے لیکن یہ تفتیش اجمیر جیل میں ہی ہوگي۔ امکان ہے کہ این آئی اے اہلکار ان سے دس روز تک پوچھ گچھ کریں گے۔

راجستھان پولیس نے اجمیر کی درگاہ پر ہونے والے دھماکے کے سلسلے میں جو فردجرم عائد کی ہے اس میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کا طریقہ کار بھی ویسا ہی ہے جیسے اجمیر کا تھا اور یہ ممکن ہے کہ انہیں افراد نے اسے بھی انجام دیا ہو۔ این آئی اے نے اسی کو بنیاد بناکر عدالت سے پوچھ گچھ کی استدعا کی تھی۔

اس دوران ریاست مدھیہ پردیش کی پولیس ہندو تنظیم سے منسلک ایک کارکن سنیل جوشی کے قتل کے سلسلے میں اجمیر دھماکے میں گرفتار کیے گئے ایک شخص ہرشد کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہرشد کو حال ہی میں راجستھان کی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ وہ گجرات فسادات سے متعلق بیسٹ بیکری کیس میں بھی ملوث تھے۔ پولیس کو شبہ ہے وہ کئی دھماکوں میں ملوث ہیں۔