سمجھوتہ ایکسپریس این آئی اے تفتیش کریگی

بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کو سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے سے متعلق ان افراد سے پوچھ گچھ کی اجازت مل گئی ہے جو اجمیر دھماکے کے سلسلے میں جیل میں بند ہیں۔
راجستھان میں انسداد دہشتگردی کے لیے خصوصی عملے اے ٹی ایس نے اپنی تفتیش میں اس بات کے اشارے کیے تھے کہ سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین دھماکے میں بھی انہیں افراد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
چار برس قبل بھارت اور پاکستان کے درمیان چلنے والی ریل گاڑی میں ہوئے بم دھماکوں میں تقریبا ستّر لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
ہلاک ہونے والے بیشتر افراد پاکستانی شہری تھے۔ اس کی جانچ کے احکامات دیے گئے تھے لیکن چار برس بعد بھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ اس میں کس کا ہاتھ تھا۔
اجمیر کی سیشن عدالت نے نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی یعنی این آئی اے کو عدالتی حراست میں رہتے ہوئے دیوندر گپتا اور لوکیندر شرما سے پوچھ گچھ کی اجازت دی ہے۔

ان دونوں افراد کو اجمیر کی درگاہ کے احاطے میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سے اس سلسلے میں کافی سراغ ملے ہیں۔
اے این آئی نے عدالت کو بتایا ہے کہ یہ دونوں افراد کا تعلق ایک ہندو تنظیم سے ہے اور ان کے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں ملوث ہونے کے متعلق جانکاری ملی ہے۔
عدالت نے ایجنسی کو پوچھ گچھ کی تو اجازت دی ہے لیکن یہ تفتیش اجمیر جیل میں ہی ہوگي۔ امکان ہے کہ این آئی اے اہلکار ان سے دس روز تک پوچھ گچھ کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راجستھان پولیس نے اجمیر کی درگاہ پر ہونے والے دھماکے کے سلسلے میں جو فردجرم عائد کی ہے اس میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کا طریقہ کار بھی ویسا ہی ہے جیسے اجمیر کا تھا اور یہ ممکن ہے کہ انہیں افراد نے اسے بھی انجام دیا ہو۔ این آئی اے نے اسی کو بنیاد بناکر عدالت سے پوچھ گچھ کی استدعا کی تھی۔
اس دوران ریاست مدھیہ پردیش کی پولیس ہندو تنظیم سے منسلک ایک کارکن سنیل جوشی کے قتل کے سلسلے میں اجمیر دھماکے میں گرفتار کیے گئے ایک شخص ہرشد کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہرشد کو حال ہی میں راجستھان کی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ وہ گجرات فسادات سے متعلق بیسٹ بیکری کیس میں بھی ملوث تھے۔ پولیس کو شبہ ہے وہ کئی دھماکوں میں ملوث ہیں۔







