کشمیر، سِکھ اقلیتیں خوف زدہ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں اوباما کی آمد سے کافی امیدیں وابستہ ہیں

امریکی صدر براک حُسین اوباما کی بھارت آمد کے موقع پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی قصبے اننت ناگ میں حکام نے سِکھ آبادی کو ہراساں کرنے کے الزام میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔

شمالی کشمیر میں بھی ایک سِکھ بستی میں فوجی اہلکاروں کی طرف سے رات کے دوران گھروں پر دستک دینے سے خوف کی لہر پھیل گئی ہے۔

اننت ناگ کے ڈپٹی کمشنر جے پال سنگھ نے بتایا: '' مٹن کے نزدیک ہُٹ مورہ گاؤں کے لوگوں نے شکایت کی کہ ایک ٹاٹا سومو میں سوار بعض نامعلوم بندوق بردار گاؤں میں داخل ہوکر اقلیتی فرقہ سے وابستہ ایک شہری کے مکان میں زبردستی داخل ہونا چاہتے تھے۔ ان شکایات کا جائزہ لیا جارہا ہے تاہم ہم نےگاڑی کو ضبط کر کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے۔''

مقامی باشندہ ست پال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب جمعہ کو رات کے ساڑھے نو بجے بندوق برداروں نے ایک مکان میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی تو لوگ گھروں سے باہر آئے اور مدد کے لیے چیخ و پکار کی۔ اس پر مقامی مسلم آبادی بھی جمع ہوگئی اور بندوق بردار فرار ہوگئے تاہم لوگوں نےگاڑی کے ڈرائیور کو دبوچ لیا جسے بعد میں پولیس نے گرفتار کرلیا۔

اس واقعے سے وادی میں آباد قریب ایک لاکھ سِکھ باشندوں میں خوف کی لہر پھیل گئی۔ واضح رہے کہ اننت ناگ میں ہی دس سال قبل اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کی بھارت آمد پر نامعلوم مسلح افراد نے پینتیس سِکھ باشندوں کو قطار میں کھڑا کرکے قتل کردیا تھا۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں کئی ماہ سے حالات کشیدہ ہیں

کشمیر سِکھ کوارڈنیشن کمیٹی کے قائدین سنیچر کی صبح ہُٹ مورہ پہنچے جہاں ایک عوامی اجلاس منعقد ہوا۔ کمیٹی کے ترجمان جگموہن سنگھ رعنا نے بی بی سی کو بتایا: '' ہم نے بارہمولہ میں واقع کے بعد ہی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کو مطلع کیا تھا، لیکن ابھی تک ضلع انتظامیہ کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں ہے۔''

بدھ کی رات کو بھی ایسا ہی واقعہ شمالی ضلع بارہمولہ کے پہاڑی گاؤں اوپل ناڑ میں پیش آیا۔ اوپل ناڑ میں مقامی گرودوراہ کے سیکریٹری امریکھ سنگھ نے بتایا: '' فوجی وردی میں ملبوس مسلح افراد ایک سِول گاڑی میں آئے اور کئی مکانوں کا دروارازہ کھٹکھٹایا۔ ہمیں حکومت نے ہدایات دی ہیں کہ رات کو دروازہ نہ کھولیں۔ ان لوگوں نے آدھے گھنٹے تک دستک دی اور گالیاں بھی دیں، لیکن ہم نے دروازہ نہیں کھولا۔ وہ پھر چلے گئے، لیکن وہ رات ہمارے لیے قیامت کی رات تھی۔''

امریکھ سنگھ کا کہنا ہے کہ جمعرات کو اوپل ناڑ میں واقع فوج کی راشٹریہ رائفلز کے کیمپ سے وابستہ ایک میجر نے گاؤں کا دورہ کیا اور لوگوں کو بتایا کہ وہ فوج ہی کےلوگ تھے جنہیں مدد چاہیئے تھی۔ امریکھ نے بتایا: '' اگر انہیں مدد چاہئے تھی تو فوجی کیمپ سے مدد کیوں نہیں لی۔ کمیپ تو ہماری بستی سے صرف سو میٹر کے فاصلے پر ہے۔''

بارہمولہ کے ایس ایس پی منصور اونتو نے اس واقعہ سے متعلق بتایا کہ فوج اور پولیس اکثر اس علاقہ میں گشت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، '' ایسا کچھ نہیں ہوا، اس مسلہ کو ہوا دی جارہی ہے۔''

واضح رہے کہ اوباما کے دورہ سے قبل ہی کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے فوج ، پولیس اور خفیہ اداروں کی مشترکہ تنظیم '' یونیفائڈ ہیڈکوارٹرز'' جس کے وہ چیئرمین ہیں، کے اجلاس میں سیکورٹی فورسز کی تمام شاخوں کو ہدایت دی کہ وہ اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ، '' اوباما کا دورہ کشمیر کے لیے انوکھے مسائل پیدا کرے گا۔''

واضح رہے کہ اوباما کی بھارت آمد پر علیٰحدگی پسندوں نے وادی میں '' سِول کرفیو '' کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے بھی مظاہروں کو روکنے کے لیے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔