’پینتیس لاکھ برس پہلے اوزار بنانا سیکھا‘

ہڈیاں
،تصویر کا کیپشنیہ تحیق نیچر میگزین میں شائع ہوئی ہے

ایک تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ قدیم زمانے کے انسان نے پتھر سے اوزار بنانا اور گوشت کھانا پینتیس لاکھ برس پہلے شروع کردیا تھا۔

ایتھوپیا میں بعض ہڈیاں دریافت کی گئی ہیں جن سے اشارہ ملتا ہے کہ ہڈیوں کے اندر کا گودا نکالنے کے لیے ہڈیوں کو توڑا گیا تھا۔

’نیچر میگزین‘میں شائع ہونے والی یہ نئی تحقیق اس سے پہلے ابتدائی انسان کے بارے میں ہونے والی تحقیقات کوچیلنچ کرتی نظر آتی ہے۔

اس سے پہلے رسرچ میں یہ کہاگیا تھا کہ ایتھوپیا کے ’گونا‘ خطے میں پچیس لاکھ برس پہلے پتھروں کا اوزار بننا شروع ہوگیا تھا اور جن لوگوں نے یہ اوزار بنانا اور استعمال شروع کیا تھا وہ ہمارے ہی قریبی آباؤ اجداد تھے جن کو ’ہومو‘ کہا جاتا تھا۔

لیکن جن ہڈیوں پر نشانات پائے گئے ہیں وہ ایتھوپیا کے ڈکیکا خطے میں پائی گئی ہیں اور تقریباً پینتیس لاکھ برس پرانی ہیں۔

ان ہڈیوں پر بعض ٹیسٹ کرنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ ہڈیوں کو ’فوسیلائزڈ‘ کرنے یا ان کے پرانے ہونے سے پہلے ان میں سےگودا نکالا گیا تھا اور اس کے لیے پتھر کے اوزار کا استمعال کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے یہ کہاگیا تھا کہ ڈکیکا خطے میں’ Australopitchecus afarensis‘ نامی قدیم انسان کی نسل رہتی تھی، جو سبزیاں کھاتے تھے اور پتھرکے اوزار استعمال کرتے تھے۔

حالیہ رسرچ میں حصہ لینے والی سائنسدان زیرسنے الیمسیجے کا کہنا ہے ’یہ رسرچ ان ساری رسرچرز پر سوال اٹھاتی ہے جو اس سے پہلے’afarensis‘ نسل کے بارے میں کی گئی تھیں۔

لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم میں پروفیسرکرس اسٹرنگر کا کہنا ہے کہ اس ریسرچ میں جن نتائج کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ محض کچھ ہڈیوں کی دریافت پر مشتمل ہے اور زیادہ قابل اعتماد نہیں ہے۔