لیلٰی: آندھرا اور تمل ناڈ ساحلوں کے قریب

طوفان لیلٰی سے قبل ہی زبردست بارش سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے خلیج بنگال سے اٹھنے والا طوفان لیلٰی اب جنوبی ریاست آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کے ساحلوں کے قریب پہنچ چکا ہے اور حکام کے مطابق دوپہر بعد ساحلی علاقے اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔

طوفان کے ساحلی تک پہنچنے سے پہلے ہی آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کے ساحلی علاقوں میں دور دور تک تیز ہواؤں کے ساتھ زبردست بارشیں ہو رہی ہیں جس سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

طوفان کے خطرے کے پیش نظر تقریباً پچاس ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاگيا ہے۔ حکام کے مطابق جیسے جیسے طوفان ساحلی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے اس کی رفتار میں کمی آ رہی ہے لیکن اب بھی اس بات کا خطرہ ہے کہ جب طوفان ساحلوں تک پہنچے گا تو شدید نقصان ہو گا۔

اس سے قبل اس بات کا اندازہ تھا کہ طوفان سب سے پہلے ساحلی علاقے مچھلی پٹنم پہنچےگا لیکن اب حکام کا کہنا ہے کہ اب یہ سب سے پہلے ضلع پرکاشم کے ایک گاؤں کو نشانہ بنائے گا۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکئی ساحلی علاقے بارش شدید مراثر ہوئے ہیں

حیدرآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار عمر فاروق کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں میں طوفان آنے سے پہلے ہی اندھیرا سا چھا گیا ہے اور لوگ دن میں بھی بغیر لائٹ کے کار نہیں چلا پا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق طوفان کے سبب ہواؤں کی رفتار ایک سو پندرہ سے ایک سو پچیس کلو میٹر فی گھنٹہ ہو سکتی ہے اور آٹھ فٹ بلند تک سمندری لہریں اُٹھ سکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ چودہ برسوں میں یہ اپنی نوعیت کا سب سے خطرناک طوفان ہے اور کافی تباہی مچا سکتاہے۔

اس سے بچنے کے لیے انتظامیہ نے کافی انتظامات کیے ہیں اور فوج اور بحریہ کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

اس طوفان سے قبل ہی آندھرا پردیش کے بیشتر علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ کل سے زبردست بارش ہو رہی ہے جس میں اب تک پندرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس طوفان سے آندھر پردیش کے پانچ ضلعے متاثر ہوں گے جس میں تقریباً بارہ لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق تقریباً آٹھ سو گاؤں ایسے ہیں جہاں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔