آئی پی ایل تنازعہ، ششی تھرور مستعفی

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

انڈین پریمئر لیگ کی ایک نئی ٹیم کے لیے اپنے عہدے کا بے جا استعمال کرنے کے الزامات میں گِھر جانے کے بعد ہندوستان کے نائب وزیر خارجہ ششی تھرور مستعفی ہوگئے ہیں۔

ششی تھرور
،تصویر کا کیپشنششی تھرور نے پہلے کہا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گے

اگرچہ تھرور نے کئی مرتبہ یہ کہا تھا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے کیونکہ ان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں لیکن جیسے جیسے اس پورے معاملے میں روز نئے انکشافات ہو رہے تھے، ان کے لیے اپنے عہدے پر فائز رہنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

اتوار کو رات دیر گئے تک تھرور کے معاملے پر کانگریس کی سرکردہ قیادت تبادلہ خیال کرتی رہی جس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ تھرور کو مستعفیٰ ہونے کی ہدایت دی گئی۔ اس سے پہلے ششی تھرور نے اتوار کی دوپہر وزیر اعظم سے اپنی پہلی ملاقات میں کہا تھا کہ اگر ان کے وزارتی کونسل میں رہنے سے پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے تو وہ استعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔

اس کے بعد شام کو تھرور کی پارٹی صدر سونیا گاندھی سے ملاقات ہوئی اور پھر پارٹی کی کور کمیٹی نے اس بارے میں غور کیا کہ اس پورے تنازعے سے حکومت کی ساکھ کو ہونے والے نقصان سے کس طرح نمٹا جائے۔

حزب اختلاف نے تھرور کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعہ کو پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دی تھی۔

کیرالہ کے شہر کوچی کے نام سے منسوب آئی پی ایل کی ایک نئی ٹیم سے ششی تھرور کی وابستگی شک و شبہہ کے دائرے میں آگئی تھی اور الزام لگایا جارہا تھا کہ اس ٹیم کے حق میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے عوض اس ٹیم میں ششی تھرور کی ایک دوست سنندا پشکر کو ستر کروڑ روپے کے شیئر دیے گئے ہیں۔ کہا جا رہا تھا کہ سنندا پشکر دراصل تھرور کی ’پراکسی’ ہیں یا ان کی جانب سے کام کر رہی ہیں۔

تھرور نے پارلیمان میں ایک وضاحتی بیان بھی دیا تھا لیکن حزب اختلاف اور خود کانگریس کے اندر بعض حلقے ان کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے تھے۔

تھرور اقوام متحدہ کے ایک سابق نائب سیکریٹری جنرل ہیں جنہوں نے گزشتہ برس کے پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ہی اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ تب سے ہی وہ کسی نہ کسی تنازعہ میں گھرے رہے ہیں۔

تھرور کو سوشل نیٹورکنگ کی سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے کمنٹس شائع کرنے کا بہت شوق ہے اور اپنی بے باکی کی وجہ سے وہ پہلے بھی کئی مرتبہ مشکلات میں گھرے ہیں۔

کوچی کی ٹیم سے متعلق پورے تنازعہ کا آغاز بھی ٹویٹر سے ہی ہوا جب آئی پی ایل کے چیئرمین للت مودی نے اس ویب سائٹ پر کوچی کے شیئر ہولڈرز کی تفصیلات شائع کر دیں۔ اور اس کے بعد الزام لگایا کہ ششی تھرور نے ان سے کوچی کے مالکان کی تفصیلات عام نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ کمپنی کے مالکان میں سنندا پشکر کا نام آنے کے بعد حالات تیزی سے بگڑتے گئے اور آخر کار ششی تھرور کو مستعفی ہونا پڑا۔

رات دیر گئے صدر پرتیبھا پاٹل نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے جبکہ سنندا پشکر نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہےکہ وہ کوچی کی ٹیم میں اپنے شیئر’رضاکارانہ’ طور پر واپس کر رہی ہیں۔