آبزرور بننے کو تیار ہوں: اروندھتی رائے
بھارتی ادیب اروندھتی رائے نے کہا ہے کہ وہ ایک ’آزاد آبزرور‘ بننے کو تیار ہیں اگر بھارتی حکومت ماؤ نواز باغیوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔

انہوں نے یہ بات اس وقت کی جب ماؤ نواز باغیوں نے ایک بار پھر حکومت سے بات چیت کے پیشکش کی ہے۔
ماؤ نواز باغیوں کے ملٹری ونگ کے سربراہ کشن جی نے بی بی سی کو نامعلوم جگہ سے فون کر کے کہا کہ وہ حملے کرنے بند کردیں گے اگر بھارتی حکومت اروندھتی رائے اور بی ڈی شرما امن مذاکرات میں مصالحتی کردار ادا کریں۔
بی بی سی ہندی سروس سے بات کرتے ہوئے اگرچہ رائے نے مصالحتی کردار ادا کرنے سے انکار کردیا لیکن انہوں نے کہا کہ وہ بخوشی ایک آزاد آبزرور کی حیثیت سے مذاکرات میں بیٹھ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا ’میں ایک ادیب ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ میں مذاکرات میں مصالحتی کردار ادا نہیں کر سکتی۔‘ انہوں نے ماؤ نواز باغیوں کی جانب سہ مذاکرات کی پیشکش کی حمایت کی تاہم انہوں نے ماؤ نواز باغیوں کے سفیر کا کردار ادا کرنے سے انکار کردیا۔
’میرے خیال میں یہ بات بہت اہم ہے کہ کشن جی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور حکومت کو اس پیشکش کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔‘
یاد رہے کہ ماؤ نواز باغیوں کی بات چیت کی پیشکش پر ہندوستان کے وزير داخلہ پی چدامبرم نے کہا تھا کہ وہ ماؤنواز باغیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ تشدد کا راستہ چھوڑ دیں اور انہیں ایک سیدھا اور صاف بیان فیکس کر دیں جس کے بعد وہ اس معاملے پر وزير اعظم سے بات چیت کریں گے۔
ماؤنواز باغیوں کے ترجمان کشن جی نے کہا تھا کہ اگر حکومت پچیس فروری سے 72 روز تک اپنا آپریشن بند رکھیں تو وہ تشدد بھی روکنے کے لیے تیار ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ماؤنوازوں کی جانب سے کوئی شرائط نہیں چاہتے ہیں اور وہ ماؤنواز بات چیت کے لیے کوئی شرط نہ رکھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







