بالی ووڈ: تین خان سیاسی تنقید کا نشانہ

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بالی ووڈ کے تین اہم خان نامی سٹارز سخت گیر قوم پرستوں کے نشانے پر ہیں ۔ ممبئی کی علاقائی جماعت شیو سینا نے آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی حمایت کیے جانے کے لیے شاہ رح خان کو نشانہ بنانےکے بعد اب سیف علی خان کے خلاف اداریہ لکھا ہے۔
ہفتے کو شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے ایک اداریے میں لکھا تھا کہ شاہ رخ خان کو چاہیے کہ وہ ایک ایسی کرکٹ ٹیم بنائیں جس کا کیپٹین ممبئی بم حملے کا ملزم محمد اجمل قصاب ہو اور جس کے لیے پارلمینٹ پر حملے کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے افضل گرو کو وائس کیپٹین بنایا جائے۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ شاہ رخ کے موقف سے زیادہ یہ بتانے پر مرکوز تھا کہ شاہ رخ ایک مسلمان ہیں۔
شیو سینا نے مہاراشٹو کے تھیٹر مالکان کی ایسوسی ایشن سے کہا ہے کہ وہ فروری میں ریلیز ہونے والی شاہ رخ خان کی فلوم ’مائی نیم از خان‘ کی نمائش سے باز رہیں۔ اس دوران ملک کے انتہائی مقبول اداکار کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ معاملہ پاکستانی کرکٹرز سے نکل کر اب شاہ رخ پر مرکوز ہے۔
اس دوران شیو سینا نے سیف علی خان کو بھی اپنا حدف بنایا ہے ۔ سیف علح خان کو حال میں ملک کے قومی پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ شیو سینا کے خیال میں سیف ایک ’لفنگے‘ انسان ہیں اور وہ قومی ایوارڈ جیسے اعزاز کے لائق نہیں ہیں۔

ادھرجے پور میں سلمان خان کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بعض راجپوت تنظیمون کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی تازہ فلم’ویر‘ میں راجپپوت برادی کی توہین کی ہے ۔ اتوار کوراجپو توں کی’کرنی سینا‘ کے کارکنوں نے مظاہرے کیے اور بعض تھیٹروں میں توڑ پھوڑ کی۔
یہ ہنگامہ آرائیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب مہاراشٹر میں شیو سینا کے لیے راج ٹھاکرے کی مہا راشٹرنونرمان سینا کے سیاسی چیلنچز دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ شیو سینا ریاست میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین کو حاصل کرنے کے لیے بیتاب ہے۔ وہ اقتدار سے باہر ہے او ر پارٹی کے رہنما بال ٹھاکرے ضعیفی اور خراب صحت کے سبب تقریباً بے اثر ہو چکے ہیں۔ ان کے بیٹے اودھو ٹھاکرے میں وہ سیاسی کرشمہ نظر نہین آتا جو ان کے والد کی خصوصیت رہی تھی۔ ان کے مقابلے ان کے کزن راج ٹھاکرے ریاست کی سیاست میں زیادہ موثر نظر آ رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اودھو اور راج کی سینا ئیں کبھی ہندی بولنے والوں کے خلاف تو کبھی مراٹھی کو لازمی مضمون بنانے تو کبھی اداکاروں کو حدف بنا کرریاست مین اپنے اپنےاکھڑتے پیر جمانے کی کوشش کر رہےہیں۔

بعض ناقدین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اداکار شاہ رخ خان بھی اپنی نئی فلم ’مائی نیم از خان‘ (جس کا کچھ پس منظر 9/11 سے بھی منسلک ہے ) کی ریلیز سے پہلے پبلیسٹی کے لیے خود اس طرح کا تنا زعہ جاہتے ہیں ۔ پہلی بار خود انہوں نے چند ہفتے قبل امریکہ میں ایک ہوائی اڈے پر سیکیوریٹی اہلکاروں کے ذریعے تلاشی لیے جانے پر کافی واویلا مچایا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نئی فلم کی تشہیری مہم کے لیے سب سے پہلے گجرات کے شہر احمدآباد کا انتخاب کیا۔ پبلیسٹی کے لیےعموما یہ شہر شامل ہی نہیں کیا جاتا۔ یہی نہیں انہوں نے احمدآباد میں پبلیسٹی کے دوران ہی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستانی کرکٹرز کی حمایت میں ایک بہت ہی نپا تلا بیان دیا تھا۔ گجرات کی سرزمیں پر پاکستان کا نام آئے اور اس پر کو ئی رد عمل نہ ہو ایسا کم ہی ہو تا ہے۔ شاہ رخ خان جیسے پروفیشنل کو یہ بات اچھی طرح معلو م رہی ہو گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹیکنولوجی اور میڈیا کے اس دور میں پبلیسٹی اپنے کاز کو آگے بڑھانے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ شیو سینا ہو، راجپوت سینا یا فلم سٹارز سبھی کو شہرت کی ضرورت ہے ۔ اس کھیل میں کوئی حدف ہے تو کوئی نشانے لے رہا ہے۔







