مہاراشٹر:’یہ زبان کا پیارنہیں سیاست ہے‘

ابو عاصم اعظمی
،تصویر کا کیپشنہندی زبان میں حلف لینے پر ابو عاطم اعظمی کے ساتھ ایوان میں ہی مار پیٹ کی گئی
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں پیر کے روز سماج وادی پارٹی کے لیڈر ابوعاصم اعظمی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا کے ممبران اسمبلی کے ساتھ ہوا ہنگامہ تھما بھی نہیں تھا کہ اب شیوسینانے ابواعظمی کو دھمکی دی ہے۔

شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں منگل کے روز شائع اداریہ میں گزشتہ روز کے ہنگامے کو مہاراشٹر نو نرمان سینا اور سماج وادی پارٹی کی ملی بھگت قرار دیا ہے۔

ایوان اسمبلی سے باہر صحافیوں نے ابواعظمی سے اس اداریہ پر ان کی رائے طلب کی تو اعظمی نے اپنے بیان میں مبینہ طور پر کہا کہ ’بال ٹھاکرے عمر کے آخری دور میں ہیں بہت پریشان بھی ہیں اور جب آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کے سوچنے کی شکتی بچوں جیسی ہو جاتی ہے‘۔

اپنے لیڈر بال ٹھاکرے کے خلاف دیے گئے اعظمی کے اس بیان پر شیوسینا ممبران اسمبلی مشتعل ہوگئے اور انہوں نے اعظمی کی کار روک کر انہیں دھمکانا شروع کر دیا۔ ادھر ابو عاصم اعظمی نے اپنے بیان سے انحراف کیا ہے۔

ادھر ممبئی میں سماج وادی پارٹی اور پونے کے علاوہ ناسک میں مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکنوں نے زبردست ہنگامہ اور توڑ پھوڑ کی ہے۔گوونڈی میں آتش زنی اور بیسٹ کی بسوں پر پتھراؤ کی وارداتوں کے بعد لوگوں نے اپنی دکانیں بند کر دی ہیں۔ پولیس نے اب تک پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور تمام حساس علاقوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

شیو سینا کے اخبار سامنا کے مطابق اسمبلی میں ہونے والا ہنگامہ مہاراشٹر نو نرمان سینا(منسے) اور سماج وادی کا منصوبہ تھا۔ اخبار کے مطابق ابو اعظمی کے علاوہ کانگریس کے تین ارکان کی جانب سے انگریزی اور ہندی میں حلف اٹھانے کے موقع پر منسے کی جانب سے اعتراض نہ کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے۔

خیال رہے کہ ابواعظمی کے ہندی زبان میں حلف اٹھانے پر شروع ہونے والے ہنگامے کے تیس منٹ بعد جب دوبارہ اسمبلی اجلاس شروع ہوا تو منسے کے چار اراکین کے چار سال تک ایوان میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی گئی اور بعد میں کانگریس کے بابا صدیقی نے انگریزی میں اور کانگریس کے ہی کے امین پٹیل اور رمیش سنگھ ٹھاکر نے ہندی میں حلف لیا لیکن ایوان میں موجود منسے کے بقیہ نو اراکین نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

مہاراشٹر اسمبلی کی تشکیل ابھی پوری طرح مکمل بھی نہیں ہوئی ہے کہ ہنگامے شروع ہوگئے ہیں۔ مہاراشٹر کی دونوں علاقائی سیاسی جماعت شیوسینا اور منسے یہاں کے مقامی مراٹھیوں کے مفاد کا دم بھرتے ہیں۔ منسے کے صدر نے حلف برداری سے قبل تمام ممبران اسمبلی سے مراٹھی زبان میں حلف لینے کے لیے انتباہ کیا تھا جس کی مخالفت ابواعظمی نے کھلے عام کی تھی۔ انہوں نے بیان دینا شروع کر دیا تھا کہ وہ ہندی میں ہی حلف لیں گے اور جس میں ہمت ہو وہ انہیں روک کر دکھا دے۔

ابواعظمی کے حلف لینے کے دوران پونے سے منسے کے ایم ایل اے رمیش وانجلے نے پورا مائیک اکھاڑ دیا۔ کارگزار سپیکر گنپت دیشمکھ نے اعظمی کو ہندی میں حلف جاری رکھنے کے لیے کہا۔ پر جیسے ہی ان کا حلف مکمل ہوا اور وہ اپنی نشست کی طرف بڑھے منسے کے دیگر اراکین سشیر شندے ، رام کدم اور وسنت گیتے نے اعظمی کو مبینہ طور پر لات مارا یاور ان کے منہ پر طمانچہ مارا۔ تادیبی کمیٹی نے ان چاروں اراکین کو چار سال کے لیے معطل کر دیا۔

سیاسی تجزیہ نگار اس پورے واقعہ کو مراٹھی زبان سے محبت نہیں بلکہ اس کی سیاست قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق منسے لیڈر راج ٹھاکرے دراصل مراٹھی ووٹ اپنی طرف کھینچنے کے لیے اس طرح کی سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے منسے کی تشکیل کے بعد سے شمالی ہند کی ریاستوں اترپردیش اور بہار کے لوگوں کے خلاف پرتشدد ہنگامے کیے اور تبھی سے انہوں نے صرف مراٹھی زبان میں تقریر کرنی شروع کی جبکہ اس سے قبل وہ بہت اچھی ہندی میں تقریر بھی کرتے تھے اور انٹرویو بھی دیتے رہے ہیں۔

مہاراشٹر کے وزیراعلی اشوک چوان نے اس پورے واقعہ کو ’جمہوریت پر دھبہ‘ قرار دیا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ نے مہاراشٹر کی ’امیج‘ کو بری طرح مسخ کیا ہے۔

منسے اراکین کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کی شیوسینا پارٹی نے مذمت کی ہے۔ شیوسینا لیڈر سبھاش دیسائی نے کہا ہے کہ مراٹھی وقار کو اولیت دی جانی چاہیے لیکن ایوان میں غنڈہ گردی کرنے والوں کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔

اس پورے معاملہ کو سیاسی تجزیہ نگار صرف مراٹھی زبان کی سیاست ہی نہیں بلکہ مراٹھی کاز میں شیوسینا کو شکست دینے اور مراٹھیوں کو یہ جتانے کی کوشش ہے کہ ان کی ہی پارٹی واحد ایسی پارٹی ہے جو مراٹھیوں کے مفاد کی حفاظت کر سکتی ہے۔