آسٹریلیا: طلبہ پر حملے، انڈیا کی تشویش

- مصنف, شیام سندر
- عہدہ, بی بی سی ، دلی
ہندوستان کے وزير خارجہ ایس ایم کرشنا نے آسٹریلیا میں پچھلے دنوں بھارتی طلبہ پر ہونے والے حملوں کے معاملے میں سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے جمعہ کو آسٹریلیا کے وزير اعظم کیون رڈ سے بات چیت کی ہے۔
دلی میں وزارت خارجہ نے جمعہ کو آسٹریلیا کے ہائی کمشنر جان میکارتھی کو بھی طلب کر تشویش کا اظہار کیا۔جان میکارتھی نے کہا ہے کہ ہندوستان کی تشویش جائز ہے اور آسٹریلیا میں ہندوستانی طلبہ پر ہونے والے حملوں کو آسٹریلیا کی حکومت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
گزشتہ دنوں آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں بھارتی نژاد طلبہ کو نشانہ بنا کر ان کے گھر پر مبینہ طور پر مقامی سفید عام افراد نے حملہ کیا تھا جس میں چار ہندوستانی طلبہ زخمی ہو گئے تھے جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔
جان میکارتھی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی طلبہ کی سلامتی کے سلسلے میں آسٹریلیا کی حکومت نے سخت اقدام کیے ہیں۔
وزارت خارجہ کے اہلکاروں سے ملاقات کے بعد انہوں نے صحافیوں سے کہا ’میری نظر ميں اس قسم کے واقعات واضح طور پر مجرمانہ حرکتیں ہیں، میں نے ایسے کوئی ثبوت نہيں دیکھے جن سے ایسا محسوس ہو کہ یہ نسل پرستی کے معاملات ہیں لیکن میں اس بات سے بھی انکار نہيں کر سکتا ہوں کہ آسٹریلیا میں نسل پرستی موجود نہیں ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ کسی حملے میں نسل پرستی کا معاملہ بھی رہا ہو۔‘
ادھر آسٹریلیا میں ہندوستان کی ہائی کمشینر سجاتا سنگھ نے وہاں اہلکاروں سے ملاقات کر کے ہندوستانی طلبہ میں عدم تحفظ کے احساس کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔
بی بی سی سے بات چیت ميں سجاتا سنگھ نے آسٹریلیا کی کوشش پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔
کینبرا میں ہندوستانی سفارت خانے کی کاؤنسل جنرل انیتا نائر نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ’ہماری پولیس افسروں سے بات چیت ہوئی ہے، وہ سیدھے طلبہ تک پہنچ کر ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ آسٹریلیا میں محفوظ ہیں، اس کے علاوہ بسوں اور ٹرینوں میں پولیس گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ہندوستانی طلبہ کے لیے ہلپ لائن پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالیہ واقعات سے آسٹریلیا میں مقیم ہندوستانی شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ میلبورن میں ایک ٹیچر وکرانت کے مطابق عام طور پر طلبہ پر ہونے والے حملوں کی رپورٹ نہيں ہوتی لیکن اس مرتبہ میڈیا کے دباؤ کے سبب بعض اقدام کیے جا رہے ہیں۔
ایک انداز ے کے مطابق اس وقت آسٹریلیا ميں تقریبآً ایک لاکھ ہندوستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔







