انڈین فوج نے کیرالہ کی پہاڑی گھاٹیوں میں 48 گھنٹوں سے پھنسے ہوئے سیّاح کو بچا لیا

The Indian army team rescued Kerala trekker trapped in hill crevice for 48 hours

،تصویر کا ذریعہIndian army

،تصویر کا کیپشنانڈین فوج نے کیرالہ کے 23 برس کے سیّاح (ٹریکر) کو بچا لیا

انڈین فوج کے کوہ پیماؤں نے ایک زخمی سیّاح (ٹریکر) کو بچا لیا ہے جو ساؤتھ انڈیا کی ریاست کیرالہ میں ایک عمودی پہاڑی کی گھاٹی کی ایک دراڑ میں تقریباً 48 گھنٹوں سے بغیر خوراک اور پانی کے پھنسا ہوا تھا۔

23 برس کے آر بابو پیر کے روز کو تین دوستوں کے ساتھ پیدل سفر کے دوران پھسل کر گھاٹی میں گر گئے تھے۔

اس سے قبل تین مختلف امدادی ٹیمیں اس تک پہنچنے کی کوشش میں ناکام رہی تھیں۔ بدھ کی صبح انڈین فوج نے بالآخر ان سے رابطہ قائم کیا اور اسے بچانے میں کامیاب ہو گئی۔

خبر رساں ویب سائٹ منورما نے خبر دی کہ 'فوج کے اہلکار جنھوں نے اُسے بچانے کی کارروائی کی تھی، وہ آر بابو کے قریب پہنچی اور انھیں فوری طور خوراک اور پانی دیا تاکہ اس کی جان میں جان آسکے۔ امدادی ٹیم کے ایک رکن نے اسے حفاظتی بیلٹ پہنانے کے بعد اُسے کھینچ کر پہاڑی کی چوٹی پر لے گیا۔'

کیرالہ کے پلاکڈ ضلع میں ایک ہزار فٹ (305 میٹر) کرومباچی پہاڑی علاقہ اپنی عمودی چوٹیوں کی وجہ سے مشہور ہے اور ریاست کے محکمہ جنگلات نے پہلے ہی مقامی سیّاحوں (ٹریکروں) کو ان پہاڑی پر چڑھنے کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا ہوا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق، جب بابو پیر کے روز ایک پہاڑی سے پھسل کر گرے اور ایک گھاٹی میں پھنس گئے تو ان کے پاس اس کے اندر بیٹھنے کے لیے تھوڑی سی جگہ تھی۔

Kerala trekker R Babu is seen trapped in the cleft of a hill.

،تصویر کا ذریعہIndian Army

،تصویر کا کیپشنزخمی ہونے والا سیّاح، آر بابو، ایک پہاڑ کی گھاٹی کی چھوٹی سی جگہ میں 48 گھنٹے تک بیٹھا ہو دیکھا گیا تھا۔

پہلے تو ان کے دوست انھیں اپنے تئیں اُسے ڈنڈوں اور رسیوں کے ذریعے نکالنے کی کوششیں کرتے رہے، لیکن جب وہ ناکام ہو گئے تو وہ پولیس سے مدد لینے کے لیے پہاڑی سے نیچے اتر کر شہر پہنچے۔

کے آر بابو نے اس جگہ کی تصاویر اور سیلفیز بھیجیں تاکہ انھیں تلاش کرنے میں امدادی ٹیم کو مدد مل سکے۔

جیسے جیسے بچاؤ کی کوششوں میں تیزی آئی اور وسیع علاقے کی نگرانی شروع ہوئی تو ڈرون کا استعمال کیا گیا۔ ایک ڈرون کو پہاڑی کے اُس کنارے پر اس مقام کی نگرانی کے لیے بھیجا گیا جہاں وہ پھنسا ہوا تھا۔

منگل کے روز کوسٹ گارڈ کے ہیلی کاپٹروں نے اس تک پہنچنے کے لیے کئی پروازیں کیں لیکن علاقے کی پہاڑی ساخت (ٹوپوگرافی) اور جددید آلات کی کافی کمی کی وجہ سے وہ اُسے نکالنے میں ناکام رہے۔

امدادی ٹیمیں بھی اسے خوراک اور پانی پہنچانے میں ناکام رہیں۔

مقامی رکن اسمبلی شفیع پرمبیل نے مسٹر بابو کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ 'منگل کی دوپہر تک وہ ہاتھ اٹھا کر ریسکیو آپریٹرز کو جواب دینے کی حالت میں تھا لیکن شام تک وہ بہت کمزور ہو چکا تھا۔'

انڈین فوج کی امدادی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے ’ہندوستان ٹائمز‘ اخبار کو بتایا کہ منگل کی رات حکام نے جنگلی جانوروں کو دور رکھنے کے لیے فلیمبیوز روشنیاں استعمال کیں تھیں۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے مدد کی درخواست کے بعد انڈین فوج کی ایک ٹیم کارروائی پر مامور کی گئی تھی۔