بی بی سی کے سابق صحافی عبید صدیقی انتقال کر گئے

،تصویر کا ذریعہObaid Siddiqui
- مصنف, ثقلین امام
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس
انڈیا کے صحافی، براڈ کاسٹر اور شاعر عبید صدیقی طویل بیماری کی وجہ سے دلی میں تقریباً ستّر برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ عارضہِ قلب میں مبتلا تھے۔
عبید صدیقی جامعہ میلیہ اسلامیہ دلی میں میڈیا اور صحافت کے شعبے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ وہ کافی عرصے سے صاحبِ فراش تھے۔
جامعہ میں تعلیم و تدریس سے قبل وہ انڈیا کے معروف چینل این ڈی ٹی وی میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ مرحوم کے پسماندگان میں اُن کی اہلیہ پرت پال کور صدیقی اور بیٹی سمنا ہیں۔
عبید صدیقی بی بی سی سے سنہ 1987 میں وابستہ ہوئے تھے۔ تاہم سنہ 1996 میں وہ بی بی سی اردو سے مستعفی ہو کر واپس انڈیا چلے گئے جہاں انھوں نے این ڈی ٹی وی میں کام شروع کر دیا۔
انھوں نے براڈ کاسٹنگ اور اردو زبان کا معیار بلند رکھنے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صحافت میں جو بڑا کام کیا وہ نیلسن منڈیلا کی رہائی کے موقع پر مہاتما گاندھی کی پوتی ایلا گاندھی کا انٹرویو تھا۔ اس وقت یہ ایک تاریخی موقع تھا۔

ان کے قریبی ساتھیوں میں یاور عباس، راشد اشرف، آصف جیلانی اور نعیمہ احمد مہجور نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ عبید نے مضطرب زندگی گزاری اور یہی بات ان کی شاعری میں جھلکتی ہے۔
آصف جیلانی کہتے ہیں کہ عبید صدیقی انڈیا کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔
’عبید صدیقی ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ انھوں نے اپنے کلام پر مشتمل اپنا ایک مجموعہ ’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘ کے نام سے شائع کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آصف جیلانی نے ان کے چند ایک اشعار بھی بتائے جو مشہور ہوئے تھے:
میں یہ آنکھیں کیوں ساتھ لے آیا
دل مگر رہ گیا وہیں میرا
پھر ایک اور شعر:
یہ شاخیں پھر بھی کیا ایسی لگیں گی؟
پرندوں کو اڑا کر دیکھتے ہیں
عبید صدیقی کے بی بی سی میں ایک اور دوست راشد اشرف کہتے ہیں کہ ’وہ ہمیشہ اپنی طبیعت میں کبھی بھی چین سے نہ بیٹھ سکے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایک بہت ہی معروف شعر کہا تھا جس کا مصرعہ تھا‘:
’زندگی ریت کی دیوار بناتے گزری‘
بی بی سی سے وابستہ رہنے والی نعیمہ احمد مہجور عبید صدیقی کو گزشتہ تیس برس سے جانتی تھیں۔ عبید صدیقی آل انڈیا ریڈیو میں پروگرام ایگزیکٹو بننے کے بعد سری نگر گئے جہاں ان کی ملاقات نعیمہ احمد سے ہوئی۔
نعیمہ بتاتی ہیں کہ عبید ایک صحافی سے زیادہ ایک ادبی شخصیت تھے۔ ’ان کے سری نگر آنے کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ کشمیری شاعروں اور ادیبوں کو باقاعدگی کے سات ریڈیو سری نگر میں بلایا جانے لگا‘۔
وہ کہتی ہیں کہ ’عبید ریڈیو پر زیادہ تر غیر سیاسی مباحثے بھی کرایا کرتے تھے لیکن کشمیر ایک ایسا خطہ ہے کہ جہاں غیرسیاسی اور ادبی محفل بھی سیاسی بن جایا کرتی ہیں۔ اور ایسا ہی عبید صدیقی کے پروگراموں میں ہوا کرتا تھا۔
’انھوں نے یہی انداز بی بی سی میں شمولیت کے بعد بھی اپنایا۔ بی بی سی میں بھی وہ انگریزی مراسلوں کے اردو میں ترجمے پر ہی اکتفا کرتے تھے، وہ اوریجنل جرنل ازم کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے تھے۔‘
نعیمہ کہتی ہیں کہ لیکن وہ اپنے ساتھیوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ ان کے اسی تعاون کے بارے میں بی بی سی میں ان کے دور کے ایک ساتھی یاور عباس کہتے ہیں کہ ’عبید کے دوست بہت کم تھے لیکن جو بھی دوست تھے وہ ان سے ہر حال میں دوستی نبھایا کرتے تھے۔‘
یاور عباس نے عبید صدیقی کی زندگی کے بارے میں کہا کہ وہ ایک سکاٹش ادیب رابرٹ لوئیس سٹیونسن کے ناول ’ڈاکٹر جیکِل اینڈ ہائیڈ‘ کے کردار کی مانند تھے جو دوہری شخصیت اور لاابالی پن کی صفات کی وجہ سے کسی بھی وقت کچھ بھی کہہ سکتے تھے۔







