آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میری بچی زندہ ہے، اسے مجھ سے چرا لیا گیا'
انڈيا کے شہر کولکتہ میں تقریباً دو برس قبل ڈاکٹروں نے کانن سرکار کو بتا دیا تھا کہ ان کی نومولود بیٹی انتقال کر گئی ہے، لیکن کانن سرکار کو یقین ہے کہ ان کی بچی آج بھی زندہ ہے۔
خیال رہے کہ جولائی سنہ 2014 میں سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی ایک لاش کانن کے حوالے کی گئی تھی۔ وہ کولکتہ سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے گاؤں واپس آگئیں تھیں اور ہندو رسم و رواج کے مطابق اس کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔
اپنے گاؤں میں بی بی سی کے سوتک بسواس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا: 'اب تو مجھے پوری طرح سے یقین ہو گیا ہے کہ میری نوزائیدہ بیٹی چرانے کے بعد فروخت کردی گئی اور مجھے کسی اور کا مردہ بچہ تھما دیا گیا تھا۔'
کانن سرکار کو گذشتہ ماہ اس بات کا شک اس وقت ہوا جب بچوں کو چرا کر فروخت کرنے کے ایک گورکھ دھندے کا پردہ فاش ہوا۔
خفیہ محکمے کے حکام نے کولکتہ سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ادڑيا میں ایک نرسنگ ہوم پر چھاپا مارا تھا اور بسکٹ کے ڈبوں میں لے جانے والے تین بچوں کو برآمد کیا تھا۔
اس کے کچھ دنوں بعد ہی کولکتہ سے 17 کلومیٹر کے فاصلے پر ذہنی طور پر بیمار ایک شخص کے مکان سے ایک ماہ سے نو ماہ تک کی عمر کی دس بچیاں برآمد کی گئیں۔
مفت کلینک اور بچوں کے لیے سکول چلانے والے ایک مسیحی ادارے میں قبر کھود کر دو بچوں کی باقیات نکالی گئی تھیں۔ خفیہ محکمے کا خیال ہے کہ یہ بچے راستے میں ہی دم توڑ گئے ہوں گے اس لیے انھیں یہیں دفنایا گیا ہو گا۔
آئے دن ہر جانب کھلنے والے ایسے نرسنگ ہومز نے بچوں کی خرید و فروخت کو آسان بنا دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں پولیس نے بتایا تھا کہ اس نے بچوں کی ٹریفکنگ کرنے والے ایک گروہ کا پتہ لگا لیا ہے۔
سی آئی ڈی کے سربراہ راجیش کمار کا کہنا ہے کہ 'لگتا ہے کہ ان کا آپریشن کافی بڑا ہے۔ ہمیں شک ہے کہ تقریباً 45 سے 50 بچوں کو چرانے کے بعد ان لوگوں کو فروخت کیا گيا جن کی اولاد نہیں ہے۔'
اس سلسلے میں پولیس نے مزید دس لڑکیوں اور تین لڑکوں کو بچانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
اس کے علاوہ تین نرسنگ ہوم بند کر دیے گئے ہیں اور 20 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ان میں نرس، ڈاکٹر، دلال اور گود لینے کے لیے فرضی سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے کلرک بھی شامل ہیں۔
جن تین ڈاکٹروں کو گرفتار کیا گیا ہے اس میں وہ ڈاکٹر بھی شامل ہیں جنھوں نے کانن سرکار کو نرسنگ ہوم تک پہنچایا تھا۔ پولیس نے اس نرسنگ ہوم پر بھی چھاپہ مارا تھا۔
کانن سرکار کے شوہر آشیش نے ٹیلی ویژن پر جب یہ خبر دیکھی تو انھوں نے کولکتہ فون کیا۔ سی آئی ڈی کے اہلکاروں سے ملے اور بلاخر اس ڈاکٹر کی بھی شناخت کر لی۔، لیکن اس ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ تو صرف ان کے ساتھ نرسنگ ہوم تک گئے تھے تاکہ بچے کی پیدائش بہتر طور پر ہو سکے۔
اس ڈاکٹر کے پاس طب کے نقطہ نظر سے کوئی ڈگری نہیں ہے لیکن وہ صرف 3،500 روپے میں بچے کی ڈیلیوری کرواتے ہیں، اور یہ بہت ہی سستا ہے۔
کانن سرکار کا کہنا ہے کہ انھیں ڈاكٹروں کے برتاؤ کی وجہ سے ان پر شک ہے۔
بچے کی پیدائش کے بعد بچوں کے ماہر کہلانے والے ایک شخص نے کانن سے کہا کہ ان کے بچے کے دل میں سوراخ کے ساتھ ساتھ دوسری خرابیاں ہیں۔
تاہم اس سے پہلے اس بچے کی کوئی جانچ نہیں کی گئی۔ پیدائش سے پہلے کانن کے پانچ الٹراساؤنڈ کیے گئے لیکن اس میں بھی کوئی کمی سامنے نہیں آئی تھی۔
کانن نے بتایا کہ 'جب میں کولکتہ جا رہی تھی، وہ بچی بالکل نارمل تھی۔ وہ رو رہی تھی، ہاتھ پاؤں پھینک رہی تھی، مسکرا رہی تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کوئی اس بچی کو بیمار کیوں کہہ رہا ہے۔'
کولکتہ میں جو کچھ بھی ہوا اس سے شک اور بڑھ گیا ہے۔ پہلے ایک ڈاکٹر نے بچی کی جانچ کے بعد کہا کہ 'بچی میں کوئی خرابی نہیں ہے‘۔ اس کے بعد وہ فیملی ڈاکٹر اندر گیا،اور جب وہ باہر نکلا تو اس کے ساتھ ایک دوسرا شخص تھا جس نے کہا کہ بچی کی جانچ ضروری ہے۔
کانن کے شوہر انھیں نرسنگ ہوم میں چھوڑ کر گھر واپس ہورہے تھے کہ انھیں فون کر کے بتایا گيا کہ ان کی بچی کی موت ہو گئی۔
کانن سرکار کے بھائی اجوول بل کا کہنا تھا کہ 'جو بچہ مجھے دیا گيا تھا وہ میری بہن کے بچے سے کافی بڑا لگ رہا تھا۔ مجھے اپنی بہن کے بچے کی طرح نہیں لگا۔'
خاندان کے لوگوں کے مطابق، ڈاکٹر کو اس بارے میں کئی سوالوں کے جواب دینے ہوں گے۔
کانن سرکار کئی سوال ایک ساتھ کر رہی ہیں۔
انھوں نے سوال اٹھایا: 'کولکتہ میں ڈاکٹروں نے کیوں کہا کہ بچہ بالکل ٹھیک ہے؟ ڈاکٹروں نے جب کہا کہ بچے کو دل کی بیماری ہے، تو پھر انھوں نے اس کی جانچ کیوں نہیں کی؟ اگر بچہ واقعی بیمار تھا تو وہ راستے میں بالکل ٹھیک کس طرح تھا؟'
سی آئی ڈی کے کمار نے اس حوالے سے کہا کہ 'وہ ڈاکٹر یقینی طور پر ہماری نگرانی میں ہے۔ ان کے بارے میں ہمیں اسی طرح کی ایک اور شکایت ملی ہے۔ پورا معاملہ ہی مشکوک ہے۔'
اس واقعے نے انڈیا میں نومولود بچوں کو فروخت کرنے سے متعلق کئی سنگین مسائل اجاگر کیے ہیں۔
ملک میں بچوں کے گود لینے کے قوانین بہت سخت ہیں۔ پورے ملک میں قانونی طور پر گود لینے کے لیے صرف 3،011 مراکز ہیں۔
وہاں 12،000 جوڑے گود لینے کی قطار میں ہیں۔ ایسے میں انھیں غیر قانونی طریقے سے بچے خریدنے میں آسانی ہوتی ہے۔
اس گورکھ دھندے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ انتہائی غربت کی وجہ سے کئی مائیں اپنے بچے فروخت کرنے کے لیے مجبور بھی ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح وہ مائیں جن کی شادیاں نہیں ہوئی ہیں انھیں دلال لوٹ لیتے ہیں۔
اگر باریکی سے دیکھیں تو اس میں رنگ و نسل اور جنسی بنیادوں پر امتیازی سلوک بھی سامنے آتا ہے۔ گورے بچوں کی سب سے زیادہ سات لاکھ روپے تک قیمت ہوتی ہے جبکہ سیاہ لڑکیوں کے بہت کم پیسے ملتے ہیں۔
جگہ جگہ پھیلتے نرسنگ ہوم اور کلینک میں ڈاکٹر اور دوسرے لوگ غریبوں کی تاک میں رہتے ہیں۔
کانن سرکار اپنے گاؤں لوٹ چکی ہیں اور انھیں یقین ہے کہ ایک دن وہ ضرور اپنی بیٹی سے ملیں گی۔
وہ کہتی ہیں: 'میری نو سال کی بڑی بیٹی پوچھتی رہتی ہے کہ اس کی چھوٹی بہن کب گھر واپس آئے گی۔ مجھے بھی اس سوال کا جواب چاہیے۔'