BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 September, 2003, 18:38 GMT 22:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل مشرف سے سوال و جواب: آخری حصہ
صدر جنرل پرویز مشرف
سوال آپ کا، جواب مشرف کا

صدر جنرل پرویز مشرف کے اسلام اور مغرب کے موضوع پر بی بی سی سے نشر کی جانے والی سیریز کے سلسلے میں سوال و جواب کا آخری حصہ۔

عمران ملک:

آپ نے ملک کیلئے جو کچھ چیزیں کی ہیں اس کیلئے ہم احسان مند ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ ملک میں انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے کیا طویل المدت اقدامات کر رہے ہیں؟ میری خاص دلچسپی وہ اقدامات ہیں جو آپ اس کے خاتمے کیلئے مسلح افواج میں کر رہے ہیں؟

صدر مشرف:

جہاں تک پاکستان میں انتہا پسندی پر نظر رکھنے کا تعلق ہے تو ہم نے پہلے ہی انتہا پسند تنظیموں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ میں بالکل نہیں کہوں گا کہ پاکستان میں انتہا پسندی نہیں ہے، بالکل ہے۔ ہم نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ایک ادارہ تشکیل دیا ہے۔ ہم نے اپنی انٹیجنس کے ڈھانچے کو بہتر بنایا ہے، ہم اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہتر بنا رہے ہیں کیونکہ انہی کو ان سے نمٹنا ہے۔ حساس معلومات ہی کی مدد سے ہم انتہا پسند کاروائیاں ہونے سے پہلے ہی ان تک پہنچ سکیں گے۔ پھر ہم تفتیش کرنے والے اداروں کو بہتر بنا رہے ہیں تاکہ جرم ہونے کے بعد ہم مجرم کو پکڑ سکیں۔ ہم ملک میں فورینزک لیبارٹریاں قائم کر رہے ہیں۔ سو یہ تین قدم ہیں، پہلا یہ کہ انٹیلیجنس کے ذریعے جرم ہونے سے پہلے اسے روکنا، دوسرا موثر قانون نافذ کرنے والے اداروے جو جرم ہوتے وقت اس سے نمٹ سکیں اور تیسرا مجرموں کی بعدیں گرفتاری۔ لیکن یہ راتوں رات نہیں ہوسکتا۔ ہمیں صبر سے کام لینا ہوگا کیونکہ انتہا پسند اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

روبن لسٹنگ:

اور فوج کے اندر مبینہ انتہا پسندی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

صدر مشرف:

سوری میں یہ حصہ بھول گیا تھا۔ مسلح افواج میں اس کا ہونا، ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ مسلح افواج میں انتہا پسندی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ میں نے چالیس برس مسلح افواج میں کام کیا ہے اور وہاں کوئی انتہا پسندی نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں ایک مذہبی شخص اور انتہا پسند میں فرق کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے لوگ جو شخص سوم وصلواۃ کا پابند ہو اسے انتہا پسند سمجھ لیتے ہیں۔ ہم پاکستان میں مذہبی ہیں اور یہ ایک اسلامی ریاست ہے۔ ہم انتہا پسند نہیں ہیں۔ پاکستانی فوج میں بھی یہی صورت حال ہے۔ بہت بہت ہی کم ایسے افراد، اور انہیں ڈھونڈھ نکالا جا چکا ہے، سامنے آئے ہیں جو انتہا پسند ہیں۔ اور ہم نے ان کے خلاف سخت اقدامات کئے ہیں۔

آشوتوش پانڈے، دہلی، بھارت

بھارت میں بہت سے لوگوں کا، کم از کم تعلیم یافتہ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ اسلامی بیاد پرست کے بہت خلاف ہیں۔ لیکن کیا آپ کیلئے ان مدرسوں پر پابندی لگانا ممکن ہوگا جن سے اسلامی بنیاد پرستوں کی نشونما ہوتی ہے؟ کیا آپ کمال اتا ترک کی راستہ اختیار کر سکتے ہیں تاکہ پاکستانی طالب علم بنیاد پرستی کی طرف جانے کے بجائے بہتر پیشوں کی طرف آگے بڑھ سکیں؟

صدر مشرف:

کمال اتاترک نے جو ترکی میں کیا وہ ترکی کے حالات کے مطابق تھا۔ ہم پاکستان میں وہی نہیں کر سکتے۔ اپ بھارت سے بات کر رہے ہیں۔ جو بھارت میں کیا جا سکتا ہے وہ مختلف ہوگا۔ پاکستان میں جو کیا جا سکتا ہے وہ بہت مختلف ہے۔ دیکھتے ہیں پاکستان میں کیا کیا جا سکتا ہے۔

مدرسوں کا معاملہ بہت اہم ہے۔ میں کہہ چکا ہوں کہ ہم دہشت گردی سے تین سطح پر نمٹ رہے ہیں۔ ہم القاعدہ سے نمٹ رہے ہیں، ہم طالبان سے نمٹ رہے ہیں اور ہم مذہبی اور فرقہ وارانہ انتہا پسندی سے بھی نمٹ رہے ہیں۔ انتہا پسندی انتہا پسند عناصر کے ذریعے صرف چند مدارس میں پھیلائی جا رہی ہے، تمام میں نہیں۔ اور کچھ مسجدوں میں بھی جن کا انتہا پسند عناصر غلط استعمال کر رہے ہیں اور دوسرے فرقوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں۔

ہم ان دونوں کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں۔ ہم نے مدرسوں کے لئے ایک حکمت عملی طے کی ہے جس میں انہیں رجسٹر کرنے کو کہا گیا ہے اور ان کے لئے لازمی ہے کہ وہ طالب علموں کومذہبی تعلیم کے علاوہ چار دوسرے مضامین کی تعلیم بھی لازمی طور پر دیں جو کہ ملک کے تعلیمی بورڈ کی شرط ہے۔ اور میں کہنا چاہتا ہوں کہ اس میں ہمیں خاطرخواہ کامیابی ہوئی ہے۔ ملک کے سات ہزار میں سے دو ہزار مدرسے رجسٹر ہو چکے ہیں اور وہ یہ شرط پورا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ کہنا آسان ہے اور کرنا مشکل۔ ہمیں ان کی استعداد بڑھانا ہوگی۔ اساتذہ کی تربیت کرنا ہوگی تاکہ وہ دوسرے مضامین پڑھا سکیں۔ ہمیں ان کی مالی اعانت کرنا ہوگی تاکہ وہ ایسے اساتذہ رکھ سکیں جو یہ مضامین پڑھا سکیں۔ تو ہم مدرسوں اتہا پسندی کے خاتمے اور معتدل مزاجی کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں۔ یہی ہماری حکمت عملی ہے۔ ہم ہر چیز کو بند نہیں کر سکتے اور یہ وہ کام ہے جو کمال اتاترک نے کیا تھا۔ اور ہم مقامی سطح تک سرکار کو استعمال کر رہے تاکہ وہ یقینی بناسکیں کہ مسجدوں اور مدرسوں کا غلط استعمال نہیں ہو رہا اور وہ فرقہ وارانہ نفرت نہیں پھیلا رہے۔

سنجے جلیلی:

کیا آپ شرعی قوانین کی حمایت کرتے ہیں؟ کیا شرعی قوانین اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی قرار دادوں کے ساتھ لاگو کئے جا سکتے ہیں؟ اگر ایک عورت شرعی عدالت میں زنا کی مرتکب پائی جاتی ہے تو کیا آپ اسے سنگسار کرنے کی سزا کی حمایت کریں گے؟

صدر مشرف:

میرے خیال ہے کہ اس مسئلے کو عموماً غلط طور پر سمجھا گیا ہے۔ ہمارے آئین کے مطابق کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو قرآن وسنت کے مطابق نہ ہو۔ اسی طرح شرع ہے کہ کوئی قانون جو شرع کے مطابق نہ ہو، نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر کوئی بھی شرع مسلظ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو میرا جواب یہ ہے کہ یہ تو پہلے ہی آئین میں موجود ہے۔ اگر کوئی شرع کو استعمال کرتے ہوئے انتہا پسندانہ نظریات عورتوں کے خلاف قوانین پر، تعلیم پر، لباس پر مسلط کرنا چاہتا ہے تو ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کہ یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے۔ پاکستان کبھی کسی عورت کو سنگسار نہیں کیا گیا اور مستقبل میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوگا۔

فاروق ابراہیم:

میں پاکستانی ہوں، اسلام سے منحرف ہوں اور اپنے ملک آنا چاہتا ہوں لیکن مجھے اپنے اور اپنے خاندان کی سلامتی کا ڈر ہے۔ پاکستان میں مجھے اور میرے خاندان کو کس قسم کا تحفظ حاصل ہوگا؟

صدر مشرف:

میرا خیال ہے کہ اگر ان کا ملک پاکستان ہے اور یہ واپس آنا چاہتے ہیں تو شاید یہ کبھی پاکستان نہیں آئے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پہلی بار پاکستان آرہے ہیں۔

رابن لسٹنگ:

آپ کے ایسا کہنے کی وجہ کیا ہے؟

صدر مشرف:

کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ میں پاکستان واپس آنا چاہتا ہوں اس کا مطلب ہے کہ اب تک یہ کبھی پاکستان واپس نہیں آئے۔

رابن لسٹنگ:

اصل مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے خود کو اسلام سے منحرف بیان کیا ہے اس لئے انہیں بھروسہ نہیں ہے کہ وہ وہاں محفوظ ہوں گے۔

صدر مشرف:

پاکستان میں کوئی گولیاں نہیں چل رہیں اور کوئی بم ہر جگہ نہیں پھٹ رہے۔ بدقسمتی یہ ایک عام غلط فہمی جو حقیقت سے بہت دور ہے۔ جو بھی مغرب سے پاکستان آتا ہے، اور میں ایسے کئی وفود سے ملا ہوں جو امریکہ اور مغرب سے آئے ہیں اور وہ تمام کہتے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ ماحول اتنا اچھا ہے۔ بدقسمتی پاکستان کی شہرت باہر بہت خراب ہے اور حقیقت یہاں اتنی مختلف ہے۔ میں ان سے کہنا چاہوں گا کہ اپنے ملک پر بھروسہ رکھیں، آکر خود دیکھیں، ہم ایک ترقی پسند اور محفوظ ملک ہیں جو آگے بڑھ رہا ہے۔ براہ مہربانی یہ بھروسہ رکھیں اور پاکستان واپس آکر خود دیکھیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد