BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 September, 2003, 12:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل مشرف سے سوال و جواب
صدر جنرل پرویز مشرف
سوال آپ کا، جواب مشرف کا

صدر جنرل پرویز مشرف نے اسلام اور مغرب کے موضوع پر بی بی سی سے نشر کی جانے والی سیریز کے سلسلے میں جمعرات کو آپ کے سوالوں کا جواب دیا۔

جنرل پرویز مشرف انیس سو ننانوے میں نواز شریف کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آئے۔ وہ اس وقت سے اب تک پاکستانی فوج کے سربراہ ہیں اور صدر بھی، اگرچہ اس پر وہ اندرونی تنقید کا شکار ہیں اور حزب اختلاف کے ساتھ مسلسل تصادم میں ہیں۔ تاہم دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ایک اہم حلیف بننے پر مغرب میں ان کی بہت پذیرائی ہوئی ہے۔

صدر مشرف سے سوال و جواب کا یہ پروگرام بی بی سی عالمی سروس سے جمعرات گیارہ ستمبر کو گرینچ وقت کے مطابق نو بجے اور برطانوی وقت کے مطابق صبح دس بجےنشرکیاگیا اور بی بی سی ورلڈ ٹیلی ویژن نے یہ پروگرام اتوار چودہ ستمبر کوگرینچ وقت کے مطابق سہ پہر دو بجے اور برطانوی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے نشر کیا۔

روبن لسٹنگ:

میرا نام روبن لسٹنگ ہے اور یہ پروگرام بی بی سی ورلڈ ٹیلی ویژن، بی بی سی ورلڈ سروس اور بی بی سی نیوز آن لائن پر نشر کیا جا رہا ہے۔

نیو یارک پر گیارہ ستمبر کے حملوںں کو آج دو سال گزر چکے ہیں اور اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان تعلقات ابھی تک بحران کا شکار ہیں۔ مغرب میں بہت سے لوگوں کیلئے مسلمان ایک خطرے کی نمائندگی کرتے ہیں اور اسلام اور دہشت گردی کے الفاظ اکثر ایک دوسرے کا متبادل بن جاتے ہیں۔ بہت سے مسلمانوں کے نزدیک مغرب ایک مغرور طاقت ہے جو اپنی اقدار ان پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور جو ان کی ضروریات اور روایات کو نظرانداز کرنے پر مصر ہے۔

آج اس پروگرام میں ہمارے مہمان پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف ہیں جو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ میں اہم حلیف رہے ہیں۔

صدر مشرف، ہمارے آج کے پروگرام میں شرکت کا بہت شکریہ۔ ہم آج گیارہ ستمبر کی دوسری سالگرہ کے موقع پر جمع ہیں۔ میں سب سے پہلے تو آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ ان دو سالوں میں اسلامی دنیا اور مغرب کے تعلقات کس طرح تبدیل ہوئے ہیں۔ دراصل یہ سوال ہمیں لاہور میں کاشف کی طرف سے موصول ہونے والی ایک ای میل سے ابھرا ہے۔ ان کا سوال ہے:

کاشف، لاہور

آپ کے خیال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار سے اسلام اور مغرب کے درمیان اختلافات کم کرنے میں مدد ملی ہے؟

صدر مشرف:

یقیناً ایک تبدیلی آئی ہے اور میں کہنا چاہوں گا کہ ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی ہے جس میں تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔ اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں میرے خیال میں دنیا کو مغرب اور دنیائے اسلام کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک سوال کا دوسرا حصہ ہے کہ کیا پاکستان کے کردار سے اس فاصلے کو کم کرنے میں مدد ملی ہے تو ہم کوشش کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے اور جو صرف پاکستان ہی کا نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا اور پوری دنیا ، تمام قوموں کا مسئلہ ہے۔ اس پر بڑے پیمانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

روبن لسٹنگ:

اسامہ بن لادن اور اس کے سب سے قریب ساتھی اور نائب کی افغانستان یا شاید پاکستان میں بنی ہوئی اس نئی ویڈیو کے ریلیز ہونے سے دو سال پہلے کے ان تمام واقعات کی پھر سے براہ رست یاد دہانی کروائی گئی ہے۔ اور اس ٹیپ میں براہ راست آپ کی بات کی گئی ہے۔ آپ کو غدار قرار دیا گیا ہے اور پاکستان کے لوگوں کو آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کو کہا گیا ہے۔ آپ کا اس پر کیا ردعمل ہے؟

صدر مشرف:

بہت شدید، میرا اس پر ردعمل بہت شدید ہے۔ وہ لوگ جو زمینی حقیقتوں سے آگاہ ہیں، وہ لوگ جو افغانستان میں، لاہور اور پاکستان میں، اور ہماری سرحدوں پر جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس میں کام کر رہے ہیں، انہیں حقیقت معلوم ہے۔ جب میں کہتا ہوں لوگ، مختلف ایجنسیاں، افغانستان میں سرگرم امریکی فوجی دستے، وہاں سرگرم آئی ایس اے ایف کے دستے، سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کیا کر رہا ہے اور میں کیا کر رہا ہوں۔ اس طرح کے بیانات وہ لوگ دیتے ہیں جو اصل تصویر سے غائب ہوتے ہیں اور جو اندازے لگانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ ارد گرد کیا ہو رہا ہے، ان کے پاس اصل حقائق موجود ہی نہیں ہیں۔ وہ اصل حقائق جانتے ہی نہیں۔

روبن لسٹنگ:

چلئے ہم دبئی سے اپنی پہلی ٹیلیفون کال وصول کرتے ہیں۔

عذیر عزیز داؤد، دوبئی

جناب صدر، ایک حقیقت پسند رہنما کے طور پر آپ کیسے مغرب اور ایک ایسی اسلامی دنیاکے درمیان گہرے ہوتے ہوئے اختلافات میں فاصلہ کم کرنے کی توقع کر رہے ہیں جہاں مسلسل غصہ بڑھ رہا ہے اور جس میں ایک طرف تو اسلامی دنیا امریکہ اور مغرب کو ایک ایسی سامراجی طاقت کے طور پر دیکھتی ہے جو اسلام کی ترویج اور اقدار کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف مغرب بلاشبہ ہر پابند صوم و صلواۃ مسلمان اور آزادی کے لئے لڑنے والے کو انتہا پسند تصور کرتا ہے؟

صدر مشرف:

ہاں، میں اس کا جواب دینا چاہوں گا۔ یہ ایک بہت اہم سوال ہے۔ جیسا کہ آپ نے خود کہا ہے کہ مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ اسلامی دنیا سمجھتی ہے کہ مغرب اسلام کو بحیثیت مذہب نشانہ بنا رہا ہے جبکہ مغرب سمجھتا ہے کہ اسلام انتہا پسندی، عدم رواداری اور تصادم کا مذہب ہے۔ اب ہمیں احساس کرنا چاہئے، پوری دنیا کو احساس کرنا چاہئے کہ یہ دنیا ایک بہت خطرناک جگہ بن گئی ہے اور ہمیں اس میں تبدیلی لانا ہوگی۔

اور میری تھیوری، جیسا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے، ایک دوہرا لائحہ عمل ہے جس پر عمل درآمد کیا جانا چاہئے۔ اس کا ایک رخ تو وہ ہے جس پر اسلامی دنیا کو عمل درآمد کرنا ہوگا جس میں ہمیں اپنے خیالات کو مجتمع کرنا ہوگا، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا آگے جانے کا راستہ تصادم، انتہا پسندی اور جنگ ہے یا آگے بڑھنے کا راستہ انسانی ترقی اور اسلامی دنیا کی آزادی ہے جو اس وقت تمام سماجی معاملات میں سب سے پیچھے ہے۔

یقیناً آگے بڑھنے کا راستہ وہ ہے ، جسے میں ، وجدانی اعتدال کہتا ہوں۔ اب یہ ہے جس کا ہمیں اسلامی دنیا میں تجزیہ کرنا چاہئے اور وجدانی اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ دوسری طرف اسلامی دنیا کو صرف نشانہ بنانے کا لائحہ عمل نہیں چلے گا۔ اس لئے مغرب کو بھی دوسرا لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ اور یہ دوسرا رخ جو مغرب کو اختیار کرنا ہوگا، میں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ بدقسمتی سے تمام سیاسی تنازعات میں مسلمان ملوث ہیں اور مسلمان ان تمام میں صرف شکار ہیں، یہ تمام منصفانہ طریقے سے حل کئے جائیں اور مسمانوں کو یہ نظر آئے کہ ان کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ یہ ہے حل۔

اور دوسرا، میں مغرب سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ اسلامی دنیا میں غربت کے خاتمے اور تعلیم کے فروغ میں مدد کریں۔ کیونکہ اس کی وجہ سے انتہا پسندی پھیلتی ہے۔ سو سیاسی تنازعات کے حل کے بعد غربت اور تعلیم جیسے مسائل کو حل کرکے ہم اصل مسائل کو حل کر رہے ہوں گے جن کی وجہ سے بنیاد پرستی، انتہا پسندی اور جنگجوانہ سوچ کو فروغ ملتا ہے۔ یہ ایک دو رخا لائحہ عمل ہے۔ اگرچہ میرا خیال ہے کہ یہ لمبا جواب تھا مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت اہم سوال تھا۔

رچرڈ ڈیویز، لنکولن، انگلینڈ

کیا آپ قبول کرتے ہیں کہ اسلامی جماعتیں آپ کے ملک میں اس وقت تک عوامی حمایت حاصل کرتی رہیں گی جب تک کہ افغانستان اور عراق میں امریکی افواج موجود ہیں اور آپ اس مسئلے کا کیسے نمٹیں گے؟

صدر مشرف:

ہمیں اس مسئلے سے ایک جمہوری اور آئینی انداز میں نمٹنا ہوگا اور میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ انتہا پسند جنگجو قوتیں اس وقت تک مضبوط ہوتی رہیں گی جب تک غیرملکی افواج افغانستان میں موجود ہیں۔یہ حقیقت نہیں ہے۔ افغانستان اکیلا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ اب عراق بھی مسئلہ ہے اور فلسطین بھی، جہاں آپ ٹیلی ویژن پر ڈیوڈ اور گولیاتھ کی جنگ دیکھتے ہیں، جہاں پتھر پھینکنے والے افراد ٹینکوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس لئے مسئلہ افغانستان سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

اور میرا یقینی ایمان ہے کہ پاکستان ایک معتدل مزاج، روشن خیال اور ترقی پسند اسلامی ریاست ہے۔ پاکستان کی اکثریت اسلام کے ایک روشن خیال نقطہ نظر پر یقین رکھتی ہے اور وہ اپنے نقطہ نظر میں ہرگز انتہا پسند نہیں ہیں۔ سو آپ اپنے ملک میں ٹیلی ویژن پر جو دیکھتے ہیں وہ شاید وہ انتہا پسند ہیں، جو بہت تھوڑی سی تعداد میں ہیں۔ بدقسمتی سے آپ جب ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں تو آپ کو یوں لگتا ہے جیسے پورا پاکستان ہی اپنی فطرت میں انتہا پسند ہے مگر یہ حقیقت نہیں ہے۔ جو بھی خود پاکستان آتا ہے وہ آکر دیکھ لیتا ہے کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے جو ٹیلی ویژن کی سکرین پر دکھایا جا رہا ہے اور یہی میں آپ سے کہوں گا کہ آپ بھی آئیں اور دیکھیں۔ میں اس پر یقین رکھتا ہوں کہ انتہا پسندی، انتہا پسند قوتیں، پاکستان میں نہیں ابھریں گی اور ان کا پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد