| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل مشرف سے سوال و جواب: دوسرا حصہ
صدر جنرل پرویز مشرف کے اسلام اور مغرب کے موضوع پر بی بی سی سے نشر ہونے والی سیریز میں سوال و جواب کا دوسرا حصہ۔ اے گارسیا، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ جناب، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے آپ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے والے واحد ملک تھے۔ جب امریکہ نے اس حکومت کے خلاف جنگ شروع کی تو آپ نے فوراً ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت شروع کردی۔ میرا سوال ہے کہ کیا یہ ایک اصولی فیصلہ تھا یا صرف کاروباری نوعیت کا؟ صدر مشرف: آپ کو احساس ہوگا کہ قوموں کی پالیسیاں زمینی حقائق کے مطابق بنتی ہیں۔ جب آپ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی بات کرتے ہیں تو ہاں، ہم نے واقعی ان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ وہ افغانستان کے نوّے فیصد علاقے پر قبضہ کر چکے تھے اور پھر وہ پشتون بھی تھے۔ افغانستان میں اس وقت پشتونوں کے واحد نمائندے طالبان ہی تھے۔ خود پاکستان میں پشتون آبادی موجود ہے اور اس لئے یہ حکمتِ عملی اور موقعے کی مناسبت سے ہماری مجبوری تھی۔ اور میں کبھی بھی، اگرچہ میں پاکستان میں پچھلی کئی حکومتوں نے جو کچھ کیا اس وجہ سے ان کے خلاف بولتا آیا ہوں، لیکن میں ان کے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے خلاف کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ وہ اس وقت کے حساب سے ہماری مجبوری تھی۔ تاہم، آپ کے کسی حکومت سے سفارتی تعلقات ہونے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ آپ ان کے نقظہ نظر سے بھی مکمل اتّفاق رکھتے ہیں۔ ہمارے بھارت کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے تعلقات بہترین ہیں۔ جب ہم نے طالبان کو تسلیم کیا تو ہمیں ان کی کمزوریوں کا بھی علم تھا جن کے حق میں ہم کبھی نہیں تھے اور ہم اسلام کے ان کے نقطہ نظر سے کبھی بھی اتفاق نہیں کرتے تھے۔ اس لئے اگرچہ ہمارے ان سے سفارتی تعلقات تھے اور وہ ہماری مجبوری تھے لیکن اسلام، ہمارے مذہب پر ہمارا نقطہ نظر ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف تھا۔ کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ وہ مذہب کے طور اسلام کی ایک بہت پسماندہ شکل دنیا کے سامنے لا رہے تھے۔ اس لئے جب تبدیلی آئی، جب آئی ایس اے ایف کی یا امریکی افواج آئیں اور وہاں سرگرم ہوئیں تو ہم نے اپنا موقف تبدیل کر لیا۔ میرا خیال ہے کہ ہم نے بہت منطقی راستہ اختیار کیا۔ رابن لسٹنگ: لیکن جناب صدر سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنا موقف اسی موقعے پر کیوں تبدیل کیا؟ کیا اس کی وجہ یہ تھے کہ آپ کو امریکہ کی طرف سے اچھی خاصی مالی اعانت کی پیش کش کی گئی یا آپ کا خیال تھا کہ یہی درست قدم تھا؟ صدر مشرف: نہیں، ہمیں افغانستان پر اپنی پالیسی بدلنے پر کوئی مالی پیش کش نہیں کی گئی تھی۔ یہ یقیناً اصول کی بات تھی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نےان کے اسلام کے نقطہ نظراور تصور سے کبھی اتفاق نہیں کیا تھا۔ وہ ایک انتہا پسندانہ نقطہ نظر تھا اور میرے خیال میں پاکستان کی اکثریت ہمیشہ اس نقطہ نظر کی مخالف رہی ہے۔ اس لئے یہ تبدیلی بہت آسان تھی اور مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ پاکستان کی اکثریت اس کی حمایت کرے گی اور یہی ہوا۔ یہ ایک اصولی فیصلہ تھا۔ سید فیصل زعیم، کراچی جناب صدر میرا سوال فرقہ وارانہ ہلاکتوں کے بارے میں ہے۔ حکومت ابھی تک انہیں روکنے میں کیوں ناکام ہے؟ یوں لگتا ہے کہ ہر چند مہینوں بعد کوئی نہ کوئی ہلاکت ہوتی ہے، اس کے بارے میں شور مچتا ہے اور پھر خاموشی ہوجاتی ہے، حکومت اس پر کیوں قابو نہیں پاسکی؟ ہاں، ہماری حکومت فرقہ وارانہ ہلاکتیں نہیں روک سکی، کاش ہم روک سکتے۔ دنیا میں کوئی ملک نہیں روک سکتا، کیا اسرائیل خود کش حملوں کو روک سکا ہے؟ اگر ایک شخص سڑک پر جاتے ہوئے ایک فرد کو مارنے کا خطرہ مول لینے کو تیار ہے، دنیا کا کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ اہنے لوگوں کی مکمل سلامت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ میرا مطلب ہے کہ ہمیں نا انصافی نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن حقیقت جو آپ کو مدنظر رکھنی چاہئے یہ ہے کہ فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں ملوث تمام بڑے مجرم پکڑے جاچکے، سلاخوں کے پیچھے ہیں یا مٹا دیئے گئے ہیں۔ تمام جنگجو تنظیموں پر پابندی عائد ہے، ان کے دفاتر سربمہر کر دیئے گئے ہیں اور ان کی مکمل نگرانی کی جا رہی ہے۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان میں کہیں بھی کوئی ایک فرد بھی نہیں مارا جائے گا۔ آپ کو صورت حال کی حقیقت کا احساس کرنا ہوگا۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ دنیا کا کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ بھی کسی ایسے فرد کے خلاف جو سڑک پر جاتے ہوئے آدمی کو مارنے کو تیار ہے، سو فیصد ضمانت نہیں دے سکتا۔ سو اگرچہ بہت کچھ کیا جا رہا ہے، ہم اپنے قانون نافذ کرنے والے اور حساس اداروں کو بہتر بنا رہے ہیں، ہم نے دہشت گردی کے خلاف ایک نیا قانون متعارف کروایا ہے۔ سو ہم اقدامات کر رہے ہیں کہ اس پر قابو پایا جائے اور نگرانی کی جائے لیکن آبادی کو یہ سوچنا ہوگا کہ سو فیصد ضمانت دینا دنیا میں کہیں بھی ممکن نہیں ہے۔ روبن لسٹنگ: لیکن جناب صدر یہ بات کراچی کے علاوہ بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ ہمارے پاس آسٹریلیا، سڈنی سے ایک ای میل سونڈرا لارنس کی بھی ہے کہ عیسائیوں پر آپ کے ملک میں کئی حملے ہو چکے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے ایسے کسی ٹھوس اقدامات کے بارے میں نہیں سنا جو آپ کی حکومت نے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں لئے ہوں۔ آپ اسے کیسے روک سکتے ہیں؟ صدر مشرف: میا خیال ہے کہ یہ بالکل نا انصافی کی بات ہے کہ ہم نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ عیسائیوں پر پاکستان میں پہلے کبھی حملے نہیں ہوئے۔ یہ صرف تقریباً ایک سال، بلکہ ایک بھی نہیں چھ سے آٹھ مہینوں کے دوران ہوئے جب چند کلیساؤں، عیسائی سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے ہوئے۔ وہ دنیا، افغانستان، عراق، فلسطین میں جو کچھ ہو رہا تھا اس کا ردعمل تھے۔ اب وہ ہو چکا ہے اور یہ صرف دس مہینوں کے دوران ہوا۔ اور مجھے کہنے دیجئے کہ ان حملوں کے ذمہ دار ہر شخص کو گرفتار یا ہلاک کیا جا چکا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ سذنی میں بیٹھے ہوئے سوال کرنے والے شخص کا بہت ناانصافی کا تبصرہ ہے کہ کچھ نہیں ہوا، ہم نے کچھ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ اس کے بعد اقلیتوں کے خلاف ایک بھی حملہ نہیں ہوا۔ مجھے نہیں معلوم آیا انہوں نے بھارت سے بھی سوال کیا ہے جہاں تین ہزار مسلمان مارے گئے ہیں۔ کیا انہوں نے یہ پوچھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ بہت ناانصافی کا تبصرہ ہے۔ اور وہاں کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ بھارت میں مبلغ بھی مارے گئے ہیں، مسلمان مارے گئے ہیں لیکن دنیا انہیں سب سے زیادہ جمہوری اور سیکولر ریاست کے طور پر پہچانتی ہے۔ جبکہ یہاں صرف چند لوگ مارے جاتے ہیں تو اقوام متحدہ شور مچا دیتی ہے کہ پاکستان اقلیتوں کا تحفظ کرنے کیلئے کچھ نہیں کر رہا۔ میرا خیال ہے کہ یہ بہت ناانصافی ہے اور میں اسے ہرگز قبول کرنے کو تیار نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |