’1971‘: جنگی قیدیوں پر نئی فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’انیس سو اکہتر: پی او ڈبلیو‘ نامی فلم مشہور فلمساز رامانند ساگر کے پوتے امرت ساگر نے بنائی ہے جو نو مارچ کو نمائش کے لیے پیش ہو رہی ہے۔ یہ فلم انیس سو اکہتر کی پاک بھارت جنگ کے بعد لاپتہ بھارتی فوجیوں کے اردگرد گھومتی ہے جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ اب بھی پاکستانی جیلوں میں ہیں۔ بھارتی حکومت کا خیال ہے کہ 54 انڈین فوجی پاکستانی جیلوں میں گزشتہ چھتیس برسوں سے قید ہیں۔ یہ فلم ان ہی قیدیوں کی کشمکش اور ان کے گھر والوں کے طویل انتظار کی کہانی ہے۔ اس فلم کی موسیقی کا افتتاح انیس سو اکہتر کی جنگ میں شامل جنگی بحری بیڑے آئی این ایس وکرانت پر ہوا۔ اس موقع پر فلمساز ساگر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے خبروں میں پڑھا تھا کہ اس جنگ کے بعد انڈین فوج کے انیتس اور انڈین ایئر فورس کے پچیس افسران آج بھی پاکستانی جیلوں میں قید ہیں اور ان کے گھر والے آج بھی ان کی راہ تک رہے ہیں۔ پاکستان حکام نے انڈین حکومت کے اس دعوے کی پہلے تو نفی کی تھی لیکن بعد میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس کیس کی تفتیش کریں گے۔
امرت ساگر کے مطابق انہیں یہ کہانی ان کے دادا رامانند ساگر نے انیس سو بہتر میں سنائی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ چھ قیدی کسی طرح جیل سے نکل کر انڈین سرحد پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسٹر ساگر کا کہنا ہے کہ یہ فلم انہوں نے انسانی جذبوں کے تحت ایمانداری کے ساتھ بنائی ہے اور انہیں یقین ہے کہ شاید اس فلم کا کچھ اثر ہو اور یہ قیدی رہا کر دیے جائیں۔ کیا یہ فلم کامیاب ہو سکےگی؟ بالی وڈ اس سے قبل بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگوں پر کئی فلمیں بنا چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب اس طرح کی فلمیں کامیاب بھی ہوئی تھیں لیکن اب وقت بدل چکا ہے اور ایسی فلمیں بری طرح ناکام ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر فلمساز جے پی دتہ کی فلم’لائن آف کنٹرول‘ (ایل او سی ) تھی جس میں بڑے کامیاب فلم سٹار شامل تھے لیکن فلم کب لگی اور کب نکل گئی کوئی جان بھی نہیں پایا۔ اسی طرح یہی حشرتین سال پہلے بننے والی فلم ’دیوار‘ کا ہوا۔ اس فلم میں امیتابھ بچن جیسا اداکار تھا لیکن فلم بری طرح فلاپ ہوئی۔ فلموں کے تجزیہ نگار ترن آدرش کہتے ہیں کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اب دونوں ممالک کے عوام اس طرح کی فلمیں پسند نہیں کرتے، وہ بھائی چارگی اور امن چاہتے ہیں، اسی لیے ایک دوسرے کے خلاف بنائی گئی فلموں کو وہ دیکھنا نہیں چاہتے۔
سکرپٹ رائٹر اور مکالمہ نویس جاوید صدیقی کی اس بارے میں رائے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انیس سو اکہتر: پی او ڈبلیو‘ کا پس منظر ضرور انڈیا پاک جنگ کا ہے لیکن فلم میں نہ تو پاکستان اور نہ ہی انڈین حکومت کی پالیسیوں یا جنگ سے متعلق کچھ تنقید کی گئی ہے بلکہ فلم مکمل طور پر حقوق انسانی پر مبنی ہے اور’ اس فلم میں صرف ان جنگی قیدیوں کا درد ہے اور ان کے اپنوں کی تڑپ‘۔ مسٹر صدیقی کے مطابق فلم کو انسانی نکتہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ان کا خیال ہے کہ یہ فلم کامیاب ہو گی کیونکہ یہ ریالٹی سنیما ہے اور آج کل لوگ اس طرح کی فلمیں پسند کر رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ ممبئی بم دھماکوں پر بنی فلم ’بلیک فرائیڈے‘ اور گجرات فسادات پر مبنی فلم ’پرزانیہ‘ کو لوگوں نے پسند کیا ہے ۔ فلمساز امرت ساگر نے یہ فلم چار سال قبل بنانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن فلم کے لیے پہلے کوئی بڑا سٹار نہیں ملا کیونکہ کوئی اس فلم میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ مسٹر ساگر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے منوج واجپئی اور روی کشن کو لے کر فلم بنائی لیکن اس فلم کو کوئی ڈسٹری بیوٹر نہیں ملا۔ آخر کار فلم مکمل ہونے کے تین سال بعد ڈسٹریبیوٹر ’ٹی وی 18‘ اسے نمائش کے لیے پیش کر رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||